رسائی کے لنکس

logo-print

حماس کا اسرائیل پر تنظیم کے ایک بانی رُکن کو قتل کرنے کا الزام


عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس نے یہ الزام عائد کرنے کے بعد کہ اسرائیلی ایجنٹوں نے تنظیم کے ایک بانی کو قتل کر دیا ہے، اسرائیل سے اس کا انتقام لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

جمعے کے روز محمود المبحوح کے جنازے میں شرکت کے لیے ہزاروں فلسطینی دمشق کی سرحد کے قریب یرموک کے پناہ گزین کیمپ میں جمع ہوئے۔انہیں پچھلے ہفتے دبئى کے ایک ہوٹل کے کمرے میں مُردہ حالت میں پایا گیا تھا۔

یرموک میں جہاں سڑکوں کے دونوں جانب حماس کے مقتول کمانڈر کی تصویروں کے پوسٹر اور کتبے آویزاں ہیں، عہدے داروں نے سوگواروں سے وعدہ کیا کہ اُن کی تنظیم جوابی وار کرے گی۔

دوبئى میں عہدے داروں نے جمعے کے روز کہا ہے کہ انہوں نے کئى مشتبہ افراد کو شناخت کر لیا ہے جو غالباً سب کے سب، عہدے داروں کے کہنے کے مطابق، کسی” پیشہ ور مجرم ٹولے“ کے ارکان ہیں اور وہ یورپی ملکوں کے پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے دوبئى سے فرار ہو گئے ہیں۔

مبحوح کی موت کی تفصیلات ابھی تک غیر واضح ہیں۔

غزہ میں آباد اُن کے ایک بھائی نے کہا ہے کہ مبحوح کو پہلے ایک ٹیزر گن سے جھٹکے دیے گیے تھے اور پھر گلا گھونٹ کر اُنہیں ہلاک ک دیا گیا۔ دوسرے فلسطینی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ طبّی معائنوں سے پتا چلا ہے کہ اُنہیں زہر دیا گیا تھا۔

50 سالہ مبحوح غزہ کی پٹی میں پلے بڑھے تھے۔ لیکن عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ شام میں مقیم تھے۔

اسرائیلی عہدے داروں نے الزام پر کوئى تبصرہ نہیں کیا۔

حماس کا کہنا ہے کہ مبحوح اُس کی مسلح شاخ کے ایک بانی رُکن تھے اور انہوں نے 1989ء دو اسرائیلی فوجیوں کو پکڑ لانے کا اصل منصوبہ بنایا تھا۔ وہ دونوں فوجی بعد میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اُن کے اہلِ خاندان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ مبحوح کو اس سے پہلے قتل کرنے کی کئى کوششیں کی گئى تھیں، جن میں وہ بچ گئے تھے۔اور انہوں نے اُن کی موت کو باعثِ فخر کہا ہے۔

مبحوح کے والد نے کہا ہے کہ اُن کا بیٹا تمام عربوں کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG