رسائی کے لنکس

فلسطینیوں پر ہر حملے کے بدلے میں ایک اسرائیلی یرغمالی کو ہلاک کرنے پر مجبور ہوں گے: حماس


 ایک فلسطینی مسلح عسکریت پسند غزہ کے قریب ایک اسرائیلی میوزک فیسٹیول کے باہر گھات لگاکر کھڑاہے فوٹو اے ایف پی، 9 اکتوبر 2023
ایک فلسطینی مسلح عسکریت پسند غزہ کے قریب ایک اسرائیلی میوزک فیسٹیول کے باہر گھات لگاکر کھڑاہے فوٹو اے ایف پی، 9 اکتوبر 2023

عسکریت پسند گروپ حماس کے عسکری دھڑے نے کہا ہے کہ اسرائیل نے جب بھی غزہ میں شہریوں کو ان کے گھروں میں نشانہ بنایا تو وہ ایک اسرائیلی سویلین قیدی کو کسی پیشگی وارننگ کے بغیر ہلاک کر دے گا۔

قاسم بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے پیر کی رات جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ گزشتہ گھنٹوں میں اسرائیل کی جانب سے شہریوں کے علاقوں پر شدید حملے دیکھے گئے ہیں جن میں لوگوں کے گھر تباہ ہو گئے ہیں ۔

ترجمان نے کہا کہ ہم نے اس سلسلے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب سے ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لوگوں کے گھرو ں کو ہدف بنایا گیا تو ہم نے جن سویلینز کو یرغمال بنایا ہوا ہے ان میں سے ایک کو بڑے دکھ کے ساتھ مجبوراً ہلاک کر دیں گے۔

اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن نے کسی بھی یرغمال کو نقصان پہنچانے کے خلاف انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی جرم کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ٹیلی وژن پر خطاب میں کہا کہ ہم نے حماس پر ابھی صرف حملوں کا آغاز کیا ہے ۔ ہم آنے والے دنوں میں اپنے دشمنوں کے ساتھ کیا کریں گے اسے وہ کئی نسلوں تک یاد رکھیں گے.

نیتن یاہونے پیر کے روز قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتنیاہو نے اسرائیل میں اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر قومی اتحاد کی حکومت بنائیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کا جواب ’مشرق وسطیٰ کو بدل کر رکھ دے گا۔

جنوبی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے میں تباہ شدہ عمارات کے سامنے دوفلسطینی نوجوان بیٹھے ہیں ، فوٹو اے ایف پی ، 9 اکتوبر 2023
جنوبی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے میں تباہ شدہ عمارات کے سامنے دوفلسطینی نوجوان بیٹھے ہیں ، فوٹو اے ایف پی ، 9 اکتوبر 2023

ان جھڑپوں میں اسرائیل میں 900 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی بمباری اور حملوں سے 680 سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 3700 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی فوج نے پیر کو غزہ کی پٹی کے ایک مکمل محاصرے کا حکم دیا تھا اور اس کے 23 لاکھ لوگوں کو خوراک ، پانی اور ایندھن اور دوسری رسدوں کی ترسیل روک دی تھی جب کہ اس نے اختتام ہفتہ عسکریت پسندوں کے خونریز حملوں کے جواب میں حماس کے زیر انتظام علاقے پر سلسلے وار فضائی حملے کیے تھے۔

حماس کی جانب سے اچانک حملوں کے دو دن سے زیادہ عرصے کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے جنوبی قصبوں میں سے بیشتر کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے جہاں وہ حماس کے مسلح ارکان سے لڑ رہا ہے۔

اسرائیل کے فوجی اور انٹیلی جنس کے آلات پر حماس نے مکمل قبضہ کر لیا تھا جس کے نتیجے میں کئی عشروں میں پہلی بار سڑکوں پر سخت لڑائیاں ہوئیں۔

اسرائیلی فوجی جنوبی اسرائیل کے ایک علاقے میں فوٹو اے پی ، 9 اکتوبر 2023
اسرائیلی فوجی جنوبی اسرائیل کے ایک علاقے میں فوٹو اے پی ، 9 اکتوبر 2023

نئے حملوں کو روکنے کے لیے اسرائیلی ٹینکوں اور ڈرونز کو غزہ کی سرحد پر نصب کر دیا گیا تھا ۔ غزہ کے قریب کے ایک درجن قصبوں سے ہزاروں اسرائیلیوں کو نکال لیا گیا تھا،اور فوج نے تین لاکھ ریزرو فوجیوں کو طلب کر لیا تھا ۔ یہ ایک مختصر وقت میں ایک بڑی تعداد کی طلبی تھی۔

غزہ کی پٹی سے فلسطینی عسکری تنظیم حماس کے اسرائیل پر کیے گئے اچانک حملے کو دہائیوں سے جاری اس تنازعے میں اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی کے تنازعے میں اسرائیلی فورسز اور حماس کئی بار آمنے سامنے آچکے ہیں اور کئی مرتبہ ہفتوں پر محیط جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ تاہم حماس کی حالیہ کارروائی کو کئی اعتبار سے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ: اسرائیل اور فلسطینیوں کے حق میں ریلیاں
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:01 0:00

غزہ کی پٹی اور حماس کی تشکیل

حماس کی تشکیل کی تاریخ بنیادی طور پر غزہ کی پٹی سے جڑی ہے۔اسرائیل اور مصر کے درمیان غزہ کا 40 کلو میٹر طویل اور 10 کلو میٹر چوڑائی رکھنے والے علاقہ غزہ اسٹرپ یا ’غزہ کی پٹی‘ بھی کہلاتا ہے۔

سن 1948 کی جنگ اور اردگرد کے علاقوں میں اسرائیل کے قیام سے قبل یہ علاقہ برطانیہ کے ’فلسطین مینڈیٹ‘ کا حصہ تھا۔

خیال رہے کہ پہلی عالمی جنگ تک فلسطین کا علاقہ سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد 1922 میں اس وقت کی بین الاقوامی تنازعات حل کرنے کے لیے قائم کی گئی عالمی تنظیم لیگ آف نیشنز نے فلسطین کو برطانوی انتظامیہ کے حوالے کردیا تھا، جسے ’فلسطین مینڈیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ غزہ بھی اس میں شامل تھا۔

حماس-اسرائیل لڑائی کا تیسرا روز؛ یروشلم میں کیا ہو رہا ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:05 0:00

بعدازاں 1947 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس مینڈیٹ کے اختتام سے قبل ہی فلسطینی علاقوں کو عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ ریاست اسرائیل کے درمیان تقسیم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔ اس منصوبے کے مطابق غزہ اور اس سے ملحقہ علاقے عربوں کو دیے گئے تھے۔

اس جنگ کی ابتدا ہی میں پڑوسی عرب ملک مصر کی افواج غزہ میں داخل ہوگئی تھیں۔

تاہم 1948 کی شدید جنگ میں اس علاقے میں عربوں کے ہاتھ سے بہت سے علاقے جانے کے بعد اس کی حدود سکڑ کر محدود ہوگئیں جسے غزہ کی پٹی کہا جاتا ہے۔

سن 1967 میں ہونے والی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے علاقے بھی حاصل کرلیے۔ فلسطینی ان تینوں علاقوں کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی مجوزہ الگ ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔

( اس رپورٹ کا مواد اے پی سے لیا گیا ہے۔)

فورم

XS
SM
MD
LG