رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدر کرزئی بات چیت کے لیے چین میں


عدم مداخلت پر مبنی اپنی خارجہ پالیسی کے باعث چین نے اپنے کردار کو صرف انسانی ہمدردی کے تحت امداد ، تجارت اورمعدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری تک محدود کر رکھا ہے

افغان صدر حامد کرزئی اور چین کے صدر ہو جن تاؤ کے درمیان بدھ کے روز بیجنگ میں ملاقات ہو رہی ہے جس میں چین سمیت دیگر پڑوسی ملکوں کی طرف سے سرمایہ کاری اور امداد کے ذریعے کابل میں استحکام لانے پر غور ہو گا ۔اس سے قبل دونوں ملکوں کے وزراء خارجہ کے درمیان بھی ملاقات ہوئی ہے۔

چین نے اگرچہ افغانستان میں تعمیر نو کے عمل کے لیے امداد جاری رکھنے کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن عدم مداخلت پر مبنی اپنی خارجہ پالیسی کے باعث اس نے اپنے کردار کو صر ف انسانی ہمدردی کے تحت امداد ، تجارت اورمعدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری تک محدود کر رکھا ہے جب کہ افغانستان کو درپیش بہت سے مسائل ایسے ہیں جو خود چین کے لیے بھی باعث تشویش ہیں جن میں انتہا پسندی، سرحد پار منشیات کی سمگلنگ اور افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کی طویل المدت موجودگی شامل ہیں۔

چین یہ الزام بھی عائد کر تا ہے کہ اس کے صوبے شنکیانگ میں جاری علیحدگی پسند کی تحریک میں عسکریت پسندوں کو افغانستان میں تربیت اور پناہ حاصل ہو رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق صدر حامد کرزئی کے وفد میں شامل تاجر برادری کے نمائندے دو طرفہ اقتصادی تعاون بڑھانے پر بات چیت کریں گے اور اس سلسلے میں معاہدوں پر بھی دستخط ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG