رسائی کے لنکس

logo-print

تحریک انصاف پر موقع پرستوں کا قبضہ ہے، حامد خان


حامد خان، فائل فوٹو

پاکستان میں برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی رکن اور سینئر رہنما حامد خان کی بنیادی رکنیت معطل کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ میڈیا میں پارٹی کے خلاف بیانات کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہیں سات روز کے اندر جواب داخل کرانے کے لیے کہا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ نے حامد خان کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔

سوال: پی ٹی آئی نے آپ کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ آپ نے پارٹی کے خلاف کیا کہہ دیا؟

حامد خان: انھوں نے شوکاز نوٹس میں کچھ بھی نہیں بتایا۔ عام سے الزامات لگائے گئے ہیں کہ پارٹی کے خلاف بیان دیا ہے۔ پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔ کوئی واضح بات نہیں ہے کہ کون سے دن، کون سے پروگرام میں کیا بات کی تھی۔ کچھ بھی نہیں۔ سب کچھ مبہم ہے۔

سوال: کیا آپ پارٹی کی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر دفاع کریں گے یا نہیں جائیں گے؟

حامد خان: ابھی تو انھوں نے کسی کمیٹی کی بات نہیں کی۔ میں ایک دو دن میں اس کا جواب بھیجوں گا۔ میں ان سے سوال کروں گا کہ پہلے واضح طور پر الزام بتائیں تاکہ میں اس کا جواب دے سکوں۔ اس وقت تو میں کوئی جواب بھی نہیں دے سکتا۔

سوال: عمران خان نے کب آپ سے مشورہ کرنا بند کیا؟ آپ کو کب احساس ہوا کہ پارٹی میں آپ کو مناسب اہمیت نہیں دی جا رہی؟

حامد خان: بس یہی کوئی سال ڈیڑھ سال سے یہ سلسلہ ہے۔

سوال: یعنی عام انتخابات کے بعد سے؟

حامد خان: نہیں، اس سے کچھ پہلے سے۔

سوال: کیا آپ اکبر ایس بابر اور جسٹس وجیہہ الدین کی صف میں کھڑے ہیں جنھوں نے مختلف وجوہ پر پارٹی کو چھوڑ دیا یا آپ کے خیالات ان سے مختلف ہیں؟

حامد خان: بات یہ ہے کہ میرا موقف ان سے مختلف ہے۔ میں اکبر ایس بابر کی طرح پارٹی کے خلاف کوئی کیس نہیں کرنا چاہتا۔ اس سے پارٹی کو نقصان ہوتا ہے جس کا کوئی قصور نہیں ہے۔ وہ تو ایک انسٹی ٹیوشن ہے۔ عام کارکن اس سے وابستہ ہیں۔ اگر ہم پارٹی کو تباہ کر دیتے ہیں تو اس سے تمام کارکن متاثر ہوں گے۔ میں اس کے ہمیشہ سے خلاف ہوں کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح میں وجیہہ صاحب کے پارٹی چھوڑنے کے فیصلے کے خلاف تھا۔ میں نے انھیں منع کیا کہ آپ پارٹی میں رہیں۔ کارکن آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس میں ہماری طرح کے سوچنے والے جو لوگ ہیں، آئیڈیلسٹ ہیں، اقدار کو بچانا چاہتے ہیں، انھیں نقصان پہنچے گا۔ لیکن اس وقت وہ پتا نہیں کس کے مشورے پر چلے اور علیحدہ پارٹی بنالی جس نے چلنا نہیں تھا۔ ہمیں معلوم تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ اچھے ہیں، خاص طور پر وجیہہ صاحب لیکن ان کا پارٹی چھوڑنے کا قدم درست نہیں تھا۔

سچی بات کریں، زیادہ لوگ آپ کے ساتھ ہوں گے جو چاہتے ہیں کہ آپ سچی بات کریں اور ملک کے مسائل حل کیے جائیں، نہ کہ موقع پرستی کا مظاہرہ کیا جائے جس کی ہر پارٹی شکار ہے۔ موقع پرستوں کے خلاف ہر طرح سے مزاحمت اور جنگ ہونی چاہیے۔ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں اور کبھی ہار نہیں ماننی چاہیے۔

سوال: کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی پر موقع پرستوں نے قبضہ کر لیا ہے؟

حامد خان: صحیح بات ہے۔ یہ تو میں بارہا کہہ چکا ہوں اور عمران خان سے بھی کہا ہے۔ وہ مجھ سے کہتے تھے کہ ان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ ہونا چاہیے۔ میں کہتا تھا کہ یہ آزمائے ہوئے لوگ ہیں۔ چار چار جماعتیں بدل چکے ہیں۔ بدعنوان اور سازشی لوگ ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے پارٹی چل نہیں سکے گی۔ جن مقاصد کے لیے پارٹی بنائی تھی، وہ سارے مقاصد ضائع ہو جائیں گے۔ یہ میرا واضح موقف رہا ہے۔ لیکن، غالباً ان کے ذہن میں یہ تھا کہ ان ہی لوگوں کے ذریعے اقتدار میں پہنچا جا سکتا ہے کیونکہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور پولیٹیکل انجینئرنگ میں مدد کرتے ہیں۔ یہ بات ان کی ذہن میں بیٹھ گئی تھی۔ یعنی آئیڈلزم کو چھوڑ کر انھوں نے یہ پریگمیٹک سوچ اپنالی کہ اقتدار میں آنا چاہیے۔

سوال: آپ کے خیال میں پی ٹی آئی کا مستقبل کیا ہے؟

حامد خان: وہی جو اسٹیبلشمنٹ کی دوسری سیاسی جماعتوں کا ہے، جیسے مسلم لیگ ق تھی۔ ان کی اپنی کوئی شناخت نہیں تھی۔ جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلتی تھیں۔ وہ آہستہ آہستہ غیر مقبول ہوتی گئیں اور اس کی ساکھ ختم ہو گئی۔ اگر آپ کی اپیل لوگوں تک نہیں پہنچتی اور یہ تاثر قائم نہیں ہوتا کہ آپ غریب آدمی کے لیے، مزدور اور کسان کے لیے، بیروزگاری اور مہنگائی کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، تو عام آدمی میں آپ کی چاہت ختم ہوتی چلی جائے گی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ سال سوا سال سے یہی ہو رہا ہے۔ لوگ بے چین اور مایوس ہیں، کیونکہ ہم ڈلیور نہیں کر پا رہے۔ موقع پرستوں کے ساتھ کوئی ڈلیور نہیں کر سکتا، کیونکہ ان کے پاس عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کوئی نیا نسخہ نہیں ہے۔

سوال: کیا پی ٹی آئی نے فارن فنڈنگ کے رولز کی خلاف ورزی کی ہے؟ ایک ماہر آئین و قانون کی حیثیت سے آپ کے خیال میں اس کیس کا فیصلہ کیا آ سکتا ہے؟

حامد خان: میں نے اس کیس کو کبھی نہیں دیکھا۔ مجھے اس کی تفصیلات کا علم نہیں۔ میں نے پارٹی کو تجویز دی تھی کہ انور منصور کو وہ معاملہ دے دیں اور وہی اسے دیکھتے رہے ہیں۔ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

سوال: سوشل میڈیا پر آپ کے نام سے ایک اکاؤنٹ سے پی ٹی آئی کے خلاف کچھ سنسنی خیز ٹوئٹ کیے گئے ہیں۔ کیا وہ آپ کا اکاؤنٹ ہے؟

حامد خان: جی نہیں۔ میرا ٹوئیٹر پر کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ کون وہ جعلی اکاؤنٹ چلا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG