رسائی کے لنکس

خالد خواجہ کے قتل کے مقدمے میں حامد میر کی عبوری ضمانت منظور


حامد میر فائل فوٹو

عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں ان کاکہنا ہے کہ 7 سال بعد مقدمے کا اندراج بد نیتی ثابت کرتا ہے ۔ عدالت اس سے قبل انہیں بے گناہ قرار دے چکی ہے۔

اسلام آباد میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عدنان خان نے آئی ایس آئی کے سابق افسر کے اغواء کے الزام میں ملزم سینئر صحافی حامد میر کی عبوری ضمانت 50لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کر لی ۔

منگل کو حامد میر نے اپنے وکیل حافظ عرفات کے ذریعے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کا حساس ادارے کے سابق افسر خالد خواجہ کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں ان کاکہنا ہے کہ 7 سال بعد مقدمے کا اندراج بد نیتی ثابت کرتا ہے ۔ عدالت اس سے قبل انہیں بے گناہ قرار دے چکی ہے۔ خالد خواجہ کی بیوہ اعتراف کر چکی ہے کہ خالد خواجہ خود وزیر ستان گیا تھا ۔

حامد میر کا کہنا ہے کہ درخواست گزار کا خالد خواجہ کے اغواء اور قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا اس کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے۔

عدالت نے 50 لاکھ روپے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آئی ایس آئی کے سابق آفیسر خالد خواجہ کی اہلیہ کی درخواست پر مقدمہ درج کئے جانے کے حکم پر تھانہ رمنا پولیس نے حامد میر اور عثمان پنجابی کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ تاہم اغواء کے مقدمہ میں قتل کی دفعہ شامل نہ ہونے پر مقتول کی اہلیہ نے ضلعی عدالت سے رجوع کر رکھا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ مقدمہ میں قتل کی دفعہ شامل کی جائے ۔

خالد خواجہ کی لاش 30 اپریل 2010 کو جنوبی وزیرستان میں میرعلی کے مقام پر ملی تھی اور ان کے اغواٗ اور قتل کی ذمہ داری ایشین ٹائیگر نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔ خالد خواجہ اس وقت ایک برطانوی میڈیا کے ادارہ کے ساتھ دستاویزی فلم کی شوٹنگ کے لیے اس علاقہ میں موجود تھے۔ برطانوی میڈیا کے ارکان کو مبینہ طور پر تاوان کے بعد رہا کردیا گیا تھا جبکہ خالد خواجہ کو قتل کردیا گیا۔ قتل سے قبل ان کا ایک اعترافی ویڈیو بھی ریکارڈ کیا گیا جو بعد میں میڈیا کو جاری کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG