رسائی کے لنکس

logo-print

ایفیڈرین کوٹا کیس: حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا


حنیف عباسی عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالت کے باہر موجود اپنے حامیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت نے ایفی ڈرین کوٹا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنائی جب کہ دیگر سات ملزمان کو شک کا فائدہ دیکر بری کردیا گیا

انسدادِ منشیات کی عدالت نے ایفی ڈرین کوٹا کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے جس کے بعد انہیں کمرۂ عدالت سے گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔

راولپنڈی کی انسداد منشیات عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان نے ہفتے کی شب ایفی ڈرین کوٹا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنائی جب کہ دیگر سات ملزمان کو شک کا فائدہ دیکر بری کردیا گیا۔

حنیف عباسی کی گرفتاری پر وہاں موجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے نعرے بازی کی اور ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔

ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی نے کہا ہے کہ ’’مجھے فیصلے سے کوئی مایوسی نہیں ہوئی، میں خوشی سے گرفتار ہو کر جیل جا رہا ہوں۔ مجھے کسی قسم کی کوئی شرمندگی نہیں۔ فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کروں گا‘‘۔

حنیف عباسی کو انسداد منشیات کی متعلقہ دفعات کے تحت سزا سنائی گئی۔، مقدمہ 6 سال تک زیر سماعت رہا، جس دوران 26 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جب کہ پانچ جج تبدیل ہوئے۔

ہفتے کو راولپنڈی کی انسداد منشیات کی عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی اور حنیف عباسی کے وکیل تنویر اقبال نے عدالت کی دی ہوئی 12 بجے کی ڈیڈلائن میں اپنی حتمی دلائل مکمل کرلئے تھے۔

حنیف عباسی کے وکیل نے مؤقف اپنایا تھا کہ ’’جو دوائیں فروخت کی گئی ہیں ان کی بینک ٹرانزکشن موجود ہیں۔ اے این ایف نے جو ریکارڈ دیا وہ ادھورا تھا، صرف لیبارٹری رپورٹ دی گئی۔ گولیوں کی پروڈکشن اور ان میں ایفیڈرین کی مقدارکا نہیں بتایا گیا تھا‘‘۔

وکیل صفائی نے عدالت میں سیلز ریکارڈ اور بینک ٹرانزکشن کا ریکارڈ بھی پیش کیا تھا۔

وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا اور کہا تھا کہ فیصلہ تین سے چار گھنٹےمیں سنایا جائے گا۔ لیکن فیصلہ رات گیارہ بجے سنایا گیا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے پہلے ہی انسداد منشیات کی عدالت کو حنیف عباسی کے خلاف ایفیڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کا حکم دے رکھا ہے۔

ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حنیف عباسی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ تاہم، اعلیٰ عدالت نے17 جولائی کو فیصلہ سناتے ہوئے ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کےخلاف حنیف عباسی کی درخواست مسترد کردی تھی۔

واضح رہے کہ اے این ایف نے 2012 میں یہ مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام ہے کہ حنیف عباسی وغیرہ نے ادویات کیلئے 500 کلوگرام ایفی ڈرین کا کوٹہ حاصل کرکے اس کا غلط استعمال کیا۔

گزشتہ چھ برس سے یہ مقدمہ زیرسماعت تھا جس میں استغاثہ کے تقریباً 36 گواہوں نے اپنے بیانات قلمبند کرائے، ہائیکورٹ کے حکم پر ٹرائل کورٹ گزشتہ ایک ہفتے سے اس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرتی رہی اور21 جولائی کو اس کیس کا فیصلہ سنائے جانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

ادویات بنانے والی کمپنیوں کو ایفیڈرین کی الاٹمنٹ میں ہوشربا بے ضابطگی کی باز گشت پہلی مرتبہ مارچ 2011 میں سنی گئی جب اس وقت کے وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے اسمبلی کو بتایا کہ مکمل تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایفیڈرین کی مقرر کردہ مقدار سے کئی گنا زیادہ مقدار کی غیر قانونی طور الاٹمنٹ کی گئی ہے۔ صرف دو کمپنیوں کو 9 ہزار کلو گرام ایفیڈرین الاٹ کی گئی جب کہ زیادہ سے زیادہ مقدار 5 سو کلو گرام ہے۔

وفاقی وزیر نے اس بات کا انکشاف رکن اسمبلی کے سوال کے جواب میں کیا تھا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس چوہدری محمد افتخار نے از خود نوٹس لیا۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے اس مقدمے میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی موسیٰ گیلانی کو نامزد کیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے حنیف عباسی کو عمر قید سزا سنانے کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’فیصلے کی ٹائمنگ بتا رہی ہے کہ فیصلہ نا انصافی پر مبنی ہے۔ عین انتخابات سے چند دن قبل ہفتہ کی آدھی رات کو اس قدر عجلت میں فیصلہ سنانا ہی ساری کہانی بیان کر رہا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’پہلے میاں نواز شریف اور مریم نواز کو انتخابات سے قبل سزا سنائی گئی اور اب حنیف عباسی کو سزا سنا دی گئی ہے، جبکہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کی اپیلوں کو انتخابات کے بعد تک ملتوی کر دیا گیا ہے‘‘۔

شہباز شریف کے بقول، ’’مسلم لیگ (ن) کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’پاکستان کی عدالتوں میں ہزاروں کیس مکمل ثبوتوں کے ساتھ زیر التوا ہیں۔ لیکن مسلم لیگ (ن) کے امیدواران کے مقدمات کے فیصلوں میں خاص تیزی دکھائی جا رہی ہے‘‘۔ بقول اُن کے، ’’حنیف عباسی کا فیصلہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG