رسائی کے لنکس

logo-print

'ہیپی برتھ ڈے' گیت پر کاپی رائٹ کا مقدمہ دلچسپ مرحلہ میں


تاہم اب فلم ساز جینیفر نیلسن کے وکلاء کو وارنر چیپل کی فائل سے 88 برس پرانا ایک گیتوں کا مجموعہ ملا ہے،جس سے پتا چلتا ہے کہ اس گیت پر پہلے کاپی رائٹ نہیں تھا۔

آپ نے اکثر فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں سالگرہ کےحوالے سے ایک حیرت انگیز بات نوٹ کی ہو گی، کہ اسکرین پر شازونادر ہی تقریب میں 'ہیپی برتھ ڈے ٹو یو' گانا گایا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ گینیز ورلڈ ریکارڈ میں درج دنیا کا مقبول ترین گیت ہیپی برتھ ڈے پر اشاعتی کمپنی'وارنر چیپل' کاپی رائٹ کا حق رکھتا ہے۔

دو برس پہلے 'گڈ مارننگ ٹو یو پروڈکشن کارپوریشن' کی جانب سے اس گانے کو بغیر لائسنس فیس کے دستاویزی فلم میں استعمال کرنے کے حق کے لیے مقدمہ کیا گیا تھا، جس میں ایک فلم ساز جینیفر نیلسن نے استدعا کی تھی، کہ یہ گانا کاپی رائٹ کے تحت نہیں ہونا چاہیئے۔

ہدایتکار جینفر نیلسن اس گانے کے بارے میں ایک دستاویزی فلم پر کام کر رہی ہیں، جنھیں فلم میں گانا استعمال کرنے کے لیے 1500 ڈالر فیس ادا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

نیلسن کی زیر التوا فلم میں پیٹی اسمتھ ہل اور اس کی بہن میلڈرڈ ہل کے اصل کام کو پیش کیا جائے گا،جنھوں نے 1883ء میں یہ گیت لکھا تھا، اس گیت کی اشاعت اس وقت 'گڈ مارننگ ٹو آل' کے عنوان سے ہوئی تھی۔

تاہم اب فلم ساز جینیفر کے وکلاء کو وارنر چیپل کی فائل سے 88 برس پرانا ایک گیتوں کا مجموعہ ملا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ اس گیت پر پہلے کاپی رائٹ نہیں تھا۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ بدھ کو مقدمے کی زبانی سماعت سے قبل انھیں ایک اہم ثبوت حاصل ہوا ہے۔

امریکی رسالے ہالی وڈ رپورٹر کے مطابق، کیلی فورنیا کی ضلعی عدالت میں پیر کو فلم سازوں کے وکلاء نے درخواست دائر کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ، انھیں اشاعتی کمپنی کی ڈیجیٹل لائبریری سے ایک بچوں کے گیتوں کا مجموعہ ملا ہے، جو ہیپی برتھ ڈے ٹو یو گیت پر مشتمل ہے۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ انھیں تین ہفتے قبل وارنر چیپل کی لائبریری تک رسائی دی گئی تھی، جہاں سے انھیں 1927ء میں شائع ہونے والا گیتوں کے مجموعے کا پندرہواں ایڈیشن ملا ہے، اور اس کے صاف ورژن کی تلاش میں وکلاء کے ہاتھ 1922ء کا ابتدائی ایڈیشن لگا ہے، جس میں یہ گانا بغیر کاپی رائٹ کے شائع ہوا ہے، جس کے بارے میں مدعیان کو یقین ہے کہ یہ گانا کاپی رائٹ کے رجسٹریشن سے پہلے عوام کے لیے وقف کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، اگر یہ ثبوت عدالت میں تسلیم کر لیے جاتے ہیں، تو وارنر چیپل 20 لاکھ سالانہ کی آمدنی سے محروم ہو سکتا ہے۔ اور فلموں اور ٹی وی شوز میں اس گانےکو استعمال کرنے کے لیے کوئی فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

مقدمے میں دلیل دی گئی ہےکہ اس گانے کی دھن اور موسیقی کو پہلی بار نغمہ نگار بہنوں پیٹی ہل اور ملڈرڈ ہل کی اجازت سے مگر کاپی رائٹ کے بغیر شائع کیا گیا تھا، جیسا کہ 1929ء اور 1922ء کے گیتوں کے البم میں ظاہر ہوا ہے اور اس کے بعد یہ گانوں کا مجموعہ ناقابل تنسیخ استحقاق کے ساتھ عوامی ڈومین میں چلا گیا تھا۔

ہیپی برتھ ڈے کے لیے کاپی رائٹ کا دعویٰ 1935ء میں سیمی کمپنی کی طرف سے کیا گیا تھا جس کے بعد 1988ء میں ملکیت کا استحقاق وارنر چیپل کو منتقل ہو گیا تھا۔

اس ضمن میں فلم سازوں کے وکلاء کا کہنا ہے کہ 1935ء میں گانے پرکاپی رائٹ کا دعوی ہیپی برتھ ڈے گیت کے لیے نہیں ہونا چاہیئے، بلکہ یہ صرف ناشر کی طرف سے کی جانے والی گانے کی ترتیب اور تبدیلی کا احاطہ کر سکتا ہے۔

اس مقدمہ میں گزشتہ دو برسوں سے دھوکہ دہی کے امکان کے حوالے سے دلائل پیش کیےجا رہے ہیں ایک سماعت میں وارنر چیپل کی طرف سے دلائل میں کہا گیا تھا کہ یہ گانا کبھی بھی استحقاق کے بغیر استعمال نہیں ہوا ہے۔

ہدایتکار جینیفر نیلسن اس مقدمے میں فلم سازوں کے ایک کلاس کی نمائندگی کر رہی ہیں انھوں نے ہر جانے کے اس مقدمے میں وارنر چیپل سے پچھلے چار سالوں کے دوران اس گیت کے لیے وصول کردہ تمام رائلٹی کی رقم فیس واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اشاعتی کمپنی وارنر چیپل کا کہنا ہے کہ ہیپی برتھ ڈے گیت پر سے اس کا کاپی رائٹ کا حق امریکہ میں 2030ء میں ختم ہو جائے گا جبکہ یہ یورپی یونین میں 2016ء میں پبلک ڈومین میں داخل ہو جائے گا۔

XS
SM
MD
LG