رسائی کے لنکس

فرانسیسی صدر امانوئیل مکخواں سے ملاقات کے بعد حریری نے کہا کہ ''جہاں تک لبنان کی سیاسی صورت حال ہے تعلق ہے، میں آئندہ دِنوں بیروت جائوں گا، میں یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کروں گا، اور صدر عون سے ملاقات کے بعد اِن معاملات پر وہیں میں اپنا موئقف بیان کروں گا''

لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری نے ہفتے کے روز پیرس میں صدارتی محل، ایلسی میں کہا ہے کہ آئندہ چند دِنوں میں وہ بیروت لوٹیں گے اور لبنانی صدر مائیکل عون کے ساتھ مذاکرات کے بعد اپنے ملک میں جاری بحران کے بارے میں اپنا موئقف بیان کریں گے۔

فرانسیسی صدر امانوئیل مکخواں سے ملاقات کے بعد حریری نے کہا کہ ''جہاں تک لبنان کی سیاسی صورت حال ہے تعلق ہے، میں آئندہ دِنوں بیروت جائوں گا، میں یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کروں گا، اور صدر عون سے ملاقات کے بعد اِن معاملات پر وہیں میں اپنا موئقف بیان کروں گا''۔

حریری نے فرانس کے صدر امانوئیل مکخواں سے بات چیت کی، جنھوں نے لبنان کے منفرد سیاسی ڈرامے میں اپنا کردار ادا کرنے میں معاونت کی پیش کش کی۔

اِسی ماہ کے اوائل میں، حریری نے سعودی ٹیلی ویژن پر عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا، جس کے نتیجے میں بھونچال مچ گیا اور شک و شبہات نے جنم لیا۔

ہفتے کی علی الصبح، لبنان کے سرکاری تحویل میں کام کرنے والے خبر رساں ادارے نے خبر دی ہے کہ حریری نے لبنان کے صدر مائیکل عون کو ٹیلی فون کیا اور بتایا کہ وہ اگلے ہفتے لبنان واپس آئیں گے، تاکہ جشن آزادی کی تقریبات میں شریک ہو سکیں۔

فرانس میں حریری کا خیرمقدم ''وزیر اعظم'' کے طور پر کیا گیا، چونکہ اُن کا ملک اُن کے استعفے کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہ بات جمعے کے روز مکخواں نے سویڈن میں بتائی تھی۔

اس سے قبل، فرانس کے صدر نے اِن افواہوں کو مسترد کیا کہ اُن کے ملک نے حریری کو پناہ دینے کی پیش کش کی ہے۔ تاہم، بہت سے حلقے یقین سے کچھ نہیں کہہ پا رہے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG