رسائی کے لنکس

ہمیں بلانے کا مقصد وزیرِ اعظم پر دباؤ ڈالنا ہے، حسن نواز


’جے آئی ٹی‘ نے وزیراعظم کے بڑے بیٹے حسین نواز کو چار جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔ حسین نواز بھی اس سے قبل پانچ مرتبہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

وزیرِاعظم نواز شریف کے بیٹے حسن نواز اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیر کو پیش ہوئے۔

حسن نواز اس سے قبل بھی دو مرتبہ 'جے آئی ٹی' کے سامنے پیش ہو چکے ہیں جب کہ وفاقی وزیرِ خزانہ کی یہ پہلی پیشی تھی۔ اسحاق ڈار وزیرِاعظم میاں نواز شریف کے سمدھی بھی ہیں۔

پیر کو تیسری پیشی کے موقع پر حسن نواز سے لگ بھگ دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری رہا۔

'جے آئی ٹی' کے سامنے پیشی کے بعد حسن نواز نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ اب تک اُنھیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان سے کن الزامات کی بنیاد پر یہ تفتیش ہو رہی ہے۔

حسن نواز نے کہا کہ انہوں نے جے آئی ٹی سے ایک سوال ضرور پوچھا ہے کہ انہیں ان کا قصور یا وہ الزام بھی بتا دیں جس کے لیے انہیں ان کے بقول پانچ پانچ، سات سات گھنٹے بلایا جا رہا ہے۔

اپنی گفتگو میں حسن نواز نے الزام عائد کیا کہ انہیں اور ان کے بھائی اور بہن کو 'جے آئی ٹی' میں بلانے کا مقصد وزیراعظم نواز شریف پر دباؤ ڈالنا ہے۔

بعد ازاں وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی پیر کو پہلی مرتبہ 'جے آئی ٹی' کے سامنے پیش ہوئے۔

اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے تمام سوالات کے جواب دے دیے ہیں۔

پیر کو حسن نواز کی پیش کے موقع پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کےباہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے معاونِ خصوصی آصف کرمانی نے کہا کہ جب تک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ نہیں کرتی اُس وقت تک اُن کے بقول تفتیش کا عمل مکمل نہیں ہو گا۔

وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کے زیر استعمال لندن کے ایک مہنگے علاقے 'مے فیئر' میں موجود فلیٹس کے بارے میں وزیراعظم کے بیٹوں کا موقف ہے کہ ان فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم پاکستان سے منتقل نہیں ہوئی اور اپنے اس موقف کے ثبوت میں انھوں نے قطر کے کے سابق وزیراعظم و وزیر خارجہ شہزادہ حمد بن جاسم بن جبر الثانی کا ایک تحریری بیان سپریم کورٹ میں پیش کیا تھا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے حمد بن جاسم بن جبر الثانی کو بھی بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلایا تھا، لیکن اُنھوں نے پاکستان آنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جے آئی ٹی‘ قطر میں اُن کا بیان ریکارڈ کر سکتی ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں آصف کرمانی کا کہنا تھا کہ ’جے آئی ٹی‘ کے پاس وسائل بھی ہیں اور اُسے قطر جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما پیپرز کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد میں واقع فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی سربراہی وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر واجد ضیا کر رہے ہیں۔

کمیٹی کے دیگر اراکین میں پاکستان اسٹیٹ بینک، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، قومی احتساب بیورو (نیب) اور فوج کے دو انٹیلی جنس اداروں، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس، کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنی حتمی رپورٹ 10 جولائی کو عدالت عظمٰی میں پیش کرنی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف بھی 15 جون کو ’جے آئی ٹی‘ کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، جن سے کمیٹی نے لگ بھگ تین گھنٹے تک سوال جواب کیے تھے۔

'جے آئی ٹی' کی کارروائی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے جس کے ساتھ ہی اس بارے میں سیاسی بیان بازی میں بھی تیزی آئی ہے۔

سیاسی گرما گرمی کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی نظر آرہے ہیں جہاں پیر کو کاروباری ہفتے کے آغاز پر 'کے ایس ای‘ 100 انڈیکس میں 1900 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG