رسائی کے لنکس

پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو پانچ جولائی کو طلب کرلیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ 'جے آئی ٹی' نے وزیراعظم کی صاحبزادی کو طلب کیا ہے۔

مریم نواز اپنے بیٹے کی 'گریجویشن' کی تقریب میں شرکت کے لیے برطانیہ میں ہیں اور فوری طور پر اُن کی طرف سے یا اُن کی جماعت کی طرف سے اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما پیپرز کے معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے غیر ملکی اثاثوں کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد میں واقع فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی سربراہی وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر واجد ضیا کر رہے ہیں۔

کمیٹی کے دیگر اراکین میں پاکستان اسٹیٹ بینک، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، قومی احتساب بیورو (نیب) اور فوج کے دو انٹیلی جنس اداروں، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس، کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں کو بھی دوبارہ طلب کرتے ہوئے حسن نواز کو تین جب کہ حسین نواز کو چار جولائی کو پیش ہونے کا کہا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف کے بڑے بیٹے حسین نواز پانچ مرتبہ جب کہ حسن نواز دو مرتبہ 'جے آئی ٹی' کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

جب کہ وزیراعظم نواز شریف بھی 15 جون کو 'جے آئی ٹی' کے سامنے پیش ہو چکے ہیں، جن سے کمیٹی نے لگ بھگ تین گھنٹے تک سوال جواب کیے تھے۔

شریف خاندان سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر بھی 'جے آئی ٹی' کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 'جے آئی ٹی' کو اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 60 روز کا وقت دیا تھا اور گزشتہ ہفتے عدالت عظمٰی کی طرف سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی حتمی رپورٹ 10 جولائی کو عدالت میں جمع کرائے۔

وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز کی طرف سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں شامل اسٹیٹ بینک اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے نمائندوں کی غیرجانبداری پر سوال اٹھائے گئے تھے۔ لیکن سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ نے ان اعتراضات کو مسترد کر دیا تھا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے عدالت عظمٰی میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا تھا کہ تفتیش کے لیے متعلقہ ریاستی اداروں سے جو دستاویزات مانگی گئی ہیں اُن میں نہ صرف مبینہ طور پر ردوبدل کیا جا رہا ہے بلکہ مطلوبہ تعاون بھی نہیں کیا جا رہا ہے۔

لیکن جن ریاستی اداروں پر الزام لگایا گیا تھا، اُنھوں نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے ذریعے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان میں 'جے آئی ٹی' کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG