رسائی کے لنکس

ہوائی کے جج کا حکمِ امتناعی، سفری پابندی پر عمل درآمد روک دیا گیا


جج ڈیرک واٹسن کا فیصلہ چھ ملکوں کے شہریوں کے سفر پر پابندی سے متعلق ہے، جس کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان ممالک نے امریکی سکیورٹی کے معیار پر عمل درآمد کے لیے درکار معلومات فراہم نہیں کی

ہوائی کے ایک وفاقی جج نے حکم امتناعی جاری کیا ہے، جس کے تحت سفری پابندی کے بارے میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے تازہ ترین حکم نامے پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے، جو بدھ کی رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ العمل ہونا تھا۔

جج ڈیرک واٹسن کا فیصلہ چھ ملکوں کے شہریوں کے سفر پر پابندی سے متعلق ہے، جس کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان ممالک نے امریکی سکیورٹی کے معیار پر عمل درآمد کے لیے درکار معلومات فراہم نہیں کی۔

سفری پابندی کا حکم چاڈ، ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن سے آنے والے مسافروں پر عائد ہونا تھا۔

واٹسن کا عارضی حکم امتناعی شمالی کوریا اور ونزویلا کے معاملے پر لاگو نہیں ہوتا۔

اپنے فیصلے میں، واٹسن نے کہا ہے کہ نئے سفری حکم نامے میں ’’مختصر اً، وہی خامیاں ہیں جو پچھلے حکم نامے میں تھیں، اس میں ضروری تفاصیل موجود نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ نشاندہی کیے گئے چھ ملکوں سے تعلق رکھنے والے 15 کروڑ سے زائد لوگوں سے متعلق معاملہ امریکی مفاد کے خلاف ہو سکتا ہے‘‘۔

یہ مقدمہ ریاست ہوائی میں مسلم ایسو سی ایشن آف ہوائی اور دیگر افراد نے دائر کیا تھا۔

ادھر، میری لینڈ کے ایک وفاقی جج نے پیر کو دلائل سنے، جس میں شاڈ، ایران، لیبیا، شمالی کوریا، صومالیہ، شام اور یمن سے آنے والے مسافروں کو روکنے کے سرکاری حکم نامے کو زیرِ غور لایا گیا۔

نوے منٹ کے اجلاس کے دوران، امریکی ضلعی جج، تھیوڈور چوانگ نے وکالتی گروپ کی جانب سے پیش کردہ دلائل سنے، جس کی قیادت مہاجرین کا ایک اعانتی پراجیکٹ کر رہا ہے، جس کی استدعا ہے کہ موجودہ حکم نامہ بھی مسلمانوں کے داخلے پر پابندی پر مبنی ہے، اور یہ کہ اس میں صدارتی اختیارات کا تجاوز کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG