رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کے نئے حکم نامے کے خلاف ہوائی کا عدالت سے رجوع


فائل فوٹو

عدالت میں منگل کو پیش کی جانے والی دستاویزات کے مطابق ہوائی اپنی ترمیم شدہ اپیل بدھ کو دائر کرے گی جبکہ حکومت اس پر اپنا موقف 13 مارچ کو عدالت میں پیش کرے گی اور اس پر بحث 15 مارچ کو ہو گی۔

امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امیگریشن سے متعلق نئے حکم نامے کے خلاف دائر ہونے والی اپیل سے متعلق دلائل آئندہ ہفتے پیش کیے جائیں۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے پیر کو جاری ہونے والے اس حکم نامے کے تحت چھ مسلم اکثریتی ملکوں کے شہریوں اور تارکین وطن کے امریکہ میں داخلے کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

ہوائی کی ریاست نے قبل ازیں صدر ٹرمپ کے امیگریشن سے متعلق پہلے حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا تاہم اس کیس کی سماعت اس لیے روک دی گئی تھی کیونکہ ایک دوسری وفاقی عدالت نے کہا تھا کہ حکومت اس حکم نامے پر عمل درآمد نہیں کر سکتی۔

اب جبکہ ٹرمپ نے ایک نیا انتظامی حکم نامہ جاری کر دیا ہے حکومت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپنی اپیل کو واپس لے رہی ہے اس لیے ہوائی ریاست کا کہنا ہے کہ اس کی امیگریشن سے متعلق پابندی کے حکم نامے کے خلاف پر سماعت ہونی چاہیے۔

عدالت میں منگل کو پیش کی جانے والی دستاویزات کے مطابق ہوائی اپنی ترمیم شدہ اپیل بدھ کو دائر کرے گی جبکہ حکومت اس پر اپنا موقف 13 مارچ کو عدالت میں پیش کرے گی اور اس پر بحث 15 مارچ کو ہو گی۔

صدر ٹرمپ نے نئے انتظامی حکم نامے پر 16 مارچ سے بارہ بج کر ایک منٹ پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا لیکن چونکہ ہوائی کا معیاری وقت واشنگٹن سے چھ گھنٹے پیچھے ہے اس لیے وہاں پر اس حکم نامے پر عمل درآمد 15 مارچ کو دیر گئے ہو جائے گا۔

نیا حکم نامہ 90 دن کے لیے موثر ہو گا اور اس کے تحت ایران، شام، یمن، لیبیا، صومالیہ اور سوڈان کے شہریوں کے لیے اس عرصے میں ویزا جاری کرنے پر پابندی ہوگی جبکہ تارکین وطن کے امریکہ میں داخلے کا پروگرام بھی 120 دنوں کے لئے روک دیا گیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے اور اس نے حکم نامے پر ہونے والی اس تنقید کو مسترد کر دیا ہے کہ اس کا ہدف مسلمان ہیں۔

ہوائی کے اٹارنی جنرل ڈگ چن نے پیر کو کہا کہ نیا حکم نامہ ان کے بقول مسلمانوں پر پابندی کی ایک نئی شکل ہے۔

چن نے کہا کہ "قومی سلامتی کے بہانے اب بھی اس کا ہدف تارکین وطن اور پناہ گزین ہیں۔ "

نئے انتظامی حکم نامے میں چھان بین اور سیکورٹی کے طریقہ کار کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سفری پابندیوں کی فہرست میں ان ملکوں کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے اس بارے میں ضروری معلومات فراہم نہیں کیں جو اس بات کو یقینی بناتیں کہ امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کسی خطرے کا باعث نہیں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG