رسائی کے لنکس

بھارت میں شدید بارشیں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 125 افراد ہلاک


فائل فوٹو

بھارت میں مون سون بارشوں کی وجہ سے ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ اور حادثات میں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں امدادی کارکن کوشاں ہیں۔ جب کہ شدید بارش کی وجہ آنے والے سیلاب اور دیگر حادثات میں اب تک 125 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں گزشتہ چار دہائیوں کے دوران رواں ماہ جولائی میں ہونے والی بارشیں سب سے شدید ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق کئی دنوں تک جاری رہنے والی بارشوں نے ہزاروں افراد کی زندگی متاثر کی ہے۔ جب کہ متعدد دریاؤں کے کنارے بنے بند ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔

مہاراشٹرا حکومت کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ ریاستی دارالحکومت ممبئی کے شمال مشرق میں 180 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تالیے میں ملبہ ہٹانے کے بعد مزید چار لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے۔

عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ لگ بھگ 40 افراد ابھی بھی لاپتا ہیں اور ان کو زندہ ریسکیو کرنے کے امکانات کم ہیں چونکہ وہ 36 گھنٹوں سے زائد وقت سے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں دنیا بھر کے متعدد علاقے موسم کی شدت کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ جب کہ چین اور مغربی یورپ کے کئی علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتِ حال کا سامنا ہے۔

دوسری طرف شمالی امریکہ میں شدید گرمی پڑ رہی ہے جس کے سبب موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارت کے مغربی سمندری کنارے پر 594 ملی میٹر (23 انچ) بارشیں ریکارڈ کی گئیں جس کے سبب حکام کو ڈیموں کو محفوظ رکھنے کی خاطر پانی رہائشی علاقوں کی طرف چھوڑنا پڑا اور حکام لوگوں کو محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے پر مجبور ہوئے۔

بھارت کے سیاحتی مقام مہا بالیشور میں 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش 60 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

بھارت کے سیاحتی مقام مہا بالیشور میں 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش 60 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ (فائل فوٹو)
بھارت کے سیاحتی مقام مہا بالیشور میں 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش 60 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ (فائل فوٹو)

عہدیدار کے مطابق ریسکیو اہلکار مہاراشٹرا میں چار دیگر مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پھنسنے والے افراد کی تلاش میں ہیں۔

مہاراشٹرا حکومت کا جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے لگ بھگ 90 ہزار افراد ریسکیو کیے گئے ہیں۔

ممبئی کے جنوب میں واقع بنگلورو سے ملانے والی سڑک متعدد مقامات سے تباہ ہو جانے کی وجہ ہزاروں ٹرک ہائی وے پر پھنسے ہوئے ہیں۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ وہ جانوں کی ضیاع پر غم زدہ ہیں۔

وزیرِ اعظم کا سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہنا تھا کہ مہاراشٹرا میں بارشوں کے سبب پیدا ہونے والی صورتِ حال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور متاثرین کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف بارشوں کی وجہ سے ریاست تلنگانہ کا صوبائی دارالحکومت حیدر آباد اور نشیبی علاقوں میں بھی سیلابی صورتِ حال ہے۔

بھارت کے ماہرینِ ماحولیات خبردار کر چکے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور ساحلی علاقوں میں کی جانے والی بہت زیادہ تعمیرات مزید تباہی کی وجہ بن سکتی ہیں۔

اس خبر کے لیے معلومات خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے حاصل کی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG