رسائی کے لنکس

بارودی سرنگیں ہٹانے والے 'ہیرو چوہے'


ہیرو چوہا کمپوڈیا میں بارودی سرنگیں تلاش کر رہا ہے۔ (فائل فوٹو)

ایک بارودی سرنگ لگانے پر تین سے 30 ڈالر جب کہ اسے نکالنے پر300 سے 1000 ڈالر تک خرچ آتا ہے۔ جب کہ تربیت یافتہ چوہا یہ کام کوڑیوں کے مول کر سکتا ہے۔

بھلے سے آپ مانیں یا نہ مانیں، چوہے بارودی سرنگوں اور زمین میں چھپایا ہوا دھماکہ خیز موادڈھونڈنے میں ماہر فوجیوں سے بہتر کام کررہے ہیں اور وہ بھی ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی اور کسی جانی نقصان کے بغیر۔

ایک چوہا 100 مربع میٹر کے علاقے میں باردوی مواد تلاش کرنے کا کام 16 سے 25 منٹ میں ختم کرلیتا ہے جب کہ میٹل ڈیٹکٹر کے ساتھ ایک انسان کو اس کے لیے 2 سے تین دن تک لگ سکتے ہیں۔

میٹل ڈیٹکٹر کی مدد سے صرف دھاتی خول میں بند بارود کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔ جب کہ چوہا پلاسٹک کی بارودی سرنگوں کی بھی نشاندہی کر دیتا ہے جسے بصورت دیگر ڈھونڈنا کا فی دشوار ہوتا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کے جنگ اور شورش زدہ علاقوں میں 11 کروڑ سے زیادہ باردی سرنگیں بچھی ہوئی ہیں۔ جن کی زد میں آکر ہر سال پانچ ہزار کے لگ بھگ لوگ ہلاک اور اس سے کہیں زیادہ زخمی ہوجاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بارودی سرنگیں براعظم افریقہ میں ہیں۔ اور انہیں ہٹانے کے لیے اربوں ڈالر درکار ہیں۔

ایک بارودی سرنگ لگانے پر تین سے 30 ڈالر جب کہ اسے نکالنے پر300 سے 1000 ڈالر تک خرچ آتا ہے۔ جب کہ تربیت یافتہ چوہا یہ کام کوڑیوں کے مول کر سکتا ہے۔

چوہوں کی مدد سے باردوں سرنگیں نکالنے کا پہلاتجریہ افریقی علاقے موزمبیق میں کیاگیااور 82 ہزار سے زیادہ بارودی سرنگیں اور دوسرا بارودی مواد نکالنے کے بعد 270 مربع میل کا علاقہ کاشت کاروں کو واپس کیا گیا ۔ یہ زرعی زمینیں بارودی سرنگوں کی وجہ سے 1980 غیر آباد چلی آرہی تھیں ۔

سوال یہ ہے کہ چوہا زمین میں چھپی ہوئی بارودی سرنگ کیسے ڈھونڈ لیتا ہے؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ اپنی سونگھنے کی طاقت ور حس کی مدد سے۔

بارودی سرنگ ڈھونڈنے کے بعد ہیرو چوہے کا انعام
بارودی سرنگ ڈھونڈنے کے بعد ہیرو چوہے کا انعام

سن 2000 تک کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایک عام سے جنگلی چوہے میں یہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس کا کھوج لگانے والے کانام ہے برٹ ویٹ جنز ، جن کا تعلق بیلجئم سے ہے۔انہیں بچپن میں چوہے پالنے کا شوق ہوا۔ چوہوں سے دوستی میں انہیں پتا چلا کہ اس میں بھی کتے کی طرح سونگھنے کی حس بہت تیز ہے اور وہ بارود تک کو اس کی بو سے پہچان لیتا ہے چاہے اسے کہیں بھی چھپایا گیا ہو۔

یہ شوق یونیورسٹی میں ان کے ساتھ گیا جہاں انہوں نے یونیورسٹی کی مدد سے اس پر مزید تحقیق کی اور پھر سن 2000 میں اے پی اوپی او کے نام سے ایک این جی او قائم کی۔ بعد ازاں اس کا ہیڈکوارٹر تنزانیہ منتقل کیا گیا،جو جنگ اور تنازعات سے متاثرہ ایک ایسا ملک تھا جہاں بڑے پیمانے پر بارودی سرنگیں موجود تھی۔

برٹ کی این جی او، جنگلی چوہوں کو تربیت دیتی ہے۔ یہ چوہے جسامت میں عام چوہوں سے بہت بڑے ہوتے ہیں۔ ان کی دم سمیت لمبائی تین فٹ اور وزن تقریباً چار پونڈ ہوتا ہے۔ ان کی اوسط عمر 8 سال ہے۔ اس لیے تربیت کے بعد وہ کئی سال تک کام کرسکتے ہیں۔

برٹ نے اپنے چوہوں کا نام ہیرو چوہے رکھا ہے۔ چوہے کی تربیت اس کی پیدائش کے چند ہفتوں کے بعد شروع ہوجاتی ہے۔اور تقریبا چھ مہینوں میں ایک عام سے جنگلی چوہا ایک ماہر کھوجی بن جاتا ہے اور سات پردوں میں چھپائے گئے بارود کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔

یہ کام کتے سے بھی لیا جا سکتا ہے لیکن ایک کتے کی تربیت پر تقریباً 40 ہزارڈالر خرچ آتا ہے اور وہ اپنے مالک کے بغیر کام نہیں کرتا ، جب کہ چوہے کی تربیت پر اخراجات 4 ہزار ڈالر سے بھی ہیں اور کوئی بھی آدمی اس سے کام لے سکتا ہے۔

کتا اپنے مالک کی خوشنودی کے لیےاور چوہا صرف اس لالچ میں کام کرتا ہے کہ باردوی سرنگ ڈھونڈنے کے بدلے میں اسے مونگ پھلی یا کیلا ملے گا۔ یہ دونوں اس کی پسندیدہ چیزیں ہیں۔

زیر تربیت چوہے۔ (فائل فوٹو)
زیر تربیت چوہے۔ (فائل فوٹو)

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر پانچ ہزار بارودی سرنگیں نکالنے پر ایک انسانی جان جاتی ہے۔ جب کہ چوہوں کا استعمال انتہائی محفوظ ہے۔ اس کے کم وزن کی وجہ سے بارودی سرنگ نہیں پھٹتی۔ جب کہ کتے کا وزن بھی بارودی سرنگ کے پھٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ہیروچوہے تنزانیہ سمیت ، موزمبیق، انگولا، کمبوڈیا، لاؤس اور تھائی لینڈ میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام کرچکے ہیں۔

کچھ عرصے سے امریکہ میں بھی چوہوں کو جانوروں کی غیرقانونی تجارت کاکھوج لگانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG