رسائی کے لنکس

کرونا وائرس کا انسانی المیہ اور حزب اللہ کے سیاسی مقاصد


لبنان میں سرگرم سیاسی کارکنوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حزب اللہ کرونا وائرس کو اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے استعمال کر رہی ہے اور اس مقصد کے لئے 15 مارچ کو اعلان کی جانے والی ہنگامی حالت کے تحت شہریوں پر سخت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

جب کہ حکومت نے اس مہینے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کےلئے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے، لبنان میں سیاسی کارکن اور صحافی ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ حزب اللہ کی قیادت والی کابینہ، بقول ان کے، اس کے پس پردہ اختلاف رائے کو کچلنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

حکومت کی طرف سے ہنگامی حالت کے اعلان کو سیکورٹی پلان سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ مختلف حلقے کہتے ہیں کہ حکومت اس کے تحت اپنے ان مخالفین کو پابند سلاسل کرنا چاہتی ہے جو اکتوبر میں مظاہروں میں شامل تھے۔

لبنان میں کرونا وائرس کے کم سے کم 333 کیس سامنے آ چکے ہیں اور ملک میں خاص کر دارالحکومت بیروت کے اندر اس تعداد میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر سرگرم کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ایمرجنسی کے قوانین کے تحت سخت اقدامات کی بجائے صحت عامہ کی جانب توجہ دی جائے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے لبنانی حکومت نے سرکاری اداروں، نجی کاروبار، بندرگاہوں اور سرحدوں کو بند کر دیا ہے۔ تاہم، مخالفین کا اعتراض ہے کہ فوج اور پولیس کو غیر معمولی اختیارات دیے دیئے گئے ہیں اور عام لوگوں کو بہتر متبادل کی بجائے مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔

اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی تنظیم کے ایک عہدیدار نے الزام لگایا ہے کہ معاملات شفاف نہیں ہیں اور بہت سے خاندان لاک ڈاون کی وجہ سے اپنی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے بحران کو حکومت اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔

وائس آف امریکہ کے لئے نامہ نگار نثان احمدو نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بہت سے لبنانی سیاست دان جو وزیراعظم حسن دیاب کی قیادت والی کابینہ کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کابینہ پر حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں کا غلبہ ہے، اور ان کے مطابق، اس میں حریری کی پارٹی کی قیادت میں بڑے سنی بلاک کو شامل نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ حزب اللہ شیعوں کی ایک انتہا پسند تنظیم ہے اور اسے ایران کے پاسدران انقلاب کی پشت پناہی حاصل ہے۔ امریکہ حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم گردانتا ہے، جس کا نصب العین مشرق وسطٰی میں ایران کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔

علاقے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق، حزب اللہ کی تنظیم لبنان میں کرونا وائرس کے انسانی المیے کی آڑ میں اپنے مخصوص سیاسی اہداف حاصل کرنے کی خواہشمند ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG