رسائی کے لنکس

logo-print

چیف جسٹس کو ججوں کی تضحیک کا حق نہیں: جسٹس شوکت عزیز


چیف جسٹس نے گزشتہ ہفتے لاڑکانہ کی ایک عدالت کے دورے کے دوران ٹی وی کیمروں کے سامنے جج کو ڈانٹ ڈپٹ کی تھی اور ان کا فون اٹھا کر پھینک دیا تھا۔

جسٹس شوکت نے کہا کہ چیف جسٹس ہماری عزت نہیں کریں گے تو ہمیں بھی اپنے ادارے کے دفاع کے لیے جواب دینے کا حق ہے۔ مذاق بنا لیا ہے کہ کسی کا چہرہ اچھا نہیں لگتا تو اس کی تضحیک شروع کر دیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو کوئی حق نہیں کہ وہ اوپن کورٹ میں ججوں کی تضحیک کریں۔

جمعے کو اسلام آباد میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس شوکت نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان سے درد مندانہ اپیل کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو حق حاصل ہے کہ وہ ہمارے خلافِ قانون فیصلوں کو کالعدم قرار دیں لیکن انہیں کوئی حق نہیں کہ اوپن کورٹ میں ججوں تضیحک کریں۔

جسٹس شوکت نے کہا کہ چیف جسٹس ہماری عزت نہیں کریں گے تو ہمیں بھی اپنے ادارے کے دفاع کے لیے جواب دینے کا حق ہے۔ مذاق بنا لیا ہے کہ کسی کا چہرہ اچھا نہیں لگتا تو اس کی تضحیک شروع کر دیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ ہفتے صحافیوں کے ہمراہ لاڑکانہ کی مقامی عدالت کا دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے مقدمات کے سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پر موبائل فون سامنے ڈیسک پر رکھنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا اور فون اٹھا کر پھینک دیا تھا۔

چیف جسٹس نے اس سے قبل ایڈیشنل سیشن جج سے مقدمات سے متعلق سوال جواب بھی کیے تھے۔

موبائل فون پھینکنے اور چیف جسٹس کی جانب سے ڈانٹ ڈپٹ کی ویڈیو پاکستان کے تمام بڑے نیوز چینلز نے نشر کی تھی جب کہ یہ وڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی تھی۔

واقعے کے دو روز بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گل ضمیر سولنگی نے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو بھیجے جانے والے استعفے کے متن میں ذیلی عدالت کے جج نے کہا تھا کہ چیف جسٹس کے دورے اور بھری عدالت میں ان کے ساتھ مکالمے کی ویڈیو نشر ہونے سے ان کے خلاف غصہ پیدا ہوا جس سے ان کا وقار اور عزتِ نفس مجروح ہوئی ہے۔ لہذا ان حالات میں وہ اپنی ملازمت جاری نہیں رکھ سکتے اور عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG