رسائی کے لنکس

حکومت گزشتہ چند سالوں سے مدارس میں اصلاحات اور انھیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے ملک میں قائم دینی مدارس کو مرکزی تعلیمی دھارے میں لانے اور ان اداروں کے نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر اعظم کے قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام فریقوں کی مشاورت کے بعد مدارس سے متعلق ایک لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

اس اجلاس میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار یوسف اور وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم بلیغ الرحمٰن نے بھی شرکت کی۔

اگرچہ حکام کی طرف سے اس بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی گئی ہیں تاہم حکومت گزشتہ چند سالوں سے مدارس میں اصلاحات اور انھیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے۔

ماہر تعلیم ڈاکٹر اے ایچ نئیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کو مرکزی دھارے میں لانا اور ان کے ںصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

"بہت ضروری ہے کہ یہ تمام مدارس ایک مرکزی دھارے میں آئیں، ان کے بارے میں قوانین بنیں وہ ان قوانین کی پابندی کریں ان کی اکاؤنٹس کی آڈیٹنگ ہو۔۔۔۔اس کے ساتھ جو تعلیم وہاں دی جاتی ہے ان کو اس طرف لایا جائے کہ (مدارس کے طلبہ کو) مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ مفید شہری بنانے کی تعلیم دی جائے۔"

پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے مدارس قائم ہیں جہاں ایک بڑی تعداد میں طالب علم مذہبی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس بات پر عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ مدارس کے طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دی جانی چاہیئے تاکہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ عملی زندگی میں بھی بھر پور کردار ادا کر سکیں۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض مدارس ملک میں انتہا پسندی کے فروغ کا باعث بن رہے ہیں اس لیے ان کے تعلیمی نصاب میں اصلاحات ضروری ہیں۔

اے ایچ نئیر نے کہا کہ اگرچہ بعض مدارس نے اس جانب کچھ پیش رفت کی ہے تاہم ان کے بقول ان کی تعداد بہت ہی کی کم ہے۔

"چند ایک مدارس ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ بدلتے زمانے کے ساتھ اپنے طور طریقوں کو بدلنا ہو گا وہ کچھ کام کر رہے ہیں مثال کے طور پر انہوں نے اپنے ہاں نصاب میں سرکاری نصاب میں پڑھائے جانے والے کچھ مضامین شامل کیے ہیں لیکن ان کے پاس تربیت یافتہ اساتذہ نہیں ہیں۔"

تعلیم کے شعبے پر نطر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے جہاں مدارس میں پڑھائےجانے والے تعلیمی نصاب میں اصلاحات ضروری ہیں وہیں ملک میں سرکاری اسکولوں میں فراہم کی جانے والی تعلیم کو معیاری بنانا بھی ضروری ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پانچ اور چودہ سال کی عمر کے لگ بھگ دو کروڑ بچے ایسے ہیں جو اسکولوں سے باہر ہیں اگرچہ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت ان بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ان تمام بچوں کو اسکولوں میں لانا ایک آسان چیلنج نہیں ہے۔

اے ایچ نئیر نے کہا کہ صرف تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہی ضروری نہیں بلکہ تعلیم کو دلچسپ بنانا بھی ضروری ہے تاکہ بچے تعلیم کی طرف راغب ہوں۔

XS
SM
MD
LG