رسائی کے لنکس

logo-print

سرینگر: بھارتی کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی ناپید


فائل

کشمیری صحافیوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں تیز رفتار انٹرنیٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی وجہ سے عوام کو ضروری اطلاعات تک رسائی حاصل نہیں ہو پا رہی۔

بھارت نے پچھلے سال اگست میں اپنے زیر انتظام کشمیر کو نیم خود مختار ریاست کا درجہ دیا تھا اور اس فیصلے کےبعد حکومت نے انٹرنیٹ کو بند کر دیا تھا۔ اس سال مارچ میں جزوی طور پر موبائیل فون کے لیے ٹو جی انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی تھی۔

پیر کے روز بھارتی سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں جموں و کشمیر حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ٹو جی انٹرنیٹ ضرورت کو پورا کرنے لیے کافی ہے اور تیز رفتار انٹرنیٹ کا غلط استعمال ہو سکتا ہے اور جھوٹی خبریں پھیلا کر انتہا پسندوں کو حملوں کی منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے۔

کشمیر میں مقیم ایک صحافی، بلال حسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تیز رفتار انٹرنیٹ کی پابندی سے ڈاکٹروں اور صحافیوں کی ضروری معلومات تک رسائی بہت محدود ہو گئی ہے۔

بقول ان کے، ''انہیں دو منٹ کی ویڈیو وائس آف امریکہ بھیجنے کے لیے چھ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح، کرونا وائرس کے بارے میں ڈاکٹروں کو بھی بر وقت معلومات نہیں مل پاتی''۔

بلال حسین نے کہا کہ ''اس کے علاوہ، ابلاغ پر پابندیوں کی وجہ سے صحافیوں کو خود پر سنسرشپ عائد کرنا پڑتی ہے۔ وہ ریاست کے بیانیے کے خلاف کچھ نہیں لکھ سکتے۔ بصورت دیگر انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے صحافیوں کو اس طرح کے دباو سے گزرنا پڑتا ہے''۔

کرونا وبا کے سلسلے میں لاک ڈاون کے بعد سے بھارتی حکام کم از کم چار صحافیوں کو قانون کی گرفت میں لا چکے ہیں۔

وائس آف امریکہ نے ان گرفتاریوں کے بارے میں جموں اور کشمیر کے پولس ہیڈکوارٹرز سے رابطہ کیا، مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

گلوبل ڈیجٹل رائٹس گروپ کے مطابق، کرونا وبا کے اس زمانے میں انٹرنیٹ تک عدم رسائی سے وبا کے پھیلنے میں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔

لندن میں، ڈیجیٹل رائٹس کے محقق سیمویل ووڈہیمز کا کہنا ہے کہ ''ٹو جی سے آن لائین سہولت تو مل جاتی ہے، مگر فور اور فائیو جی کے دور میں یہ سہولت غیر موثر نظر آتی ہے''۔

انہوں نے وی اے او کو بتایا کہ ٹو جی کے ذریعے گوگل تک بھی رسائی نہیں ہو پاتی۔

سیمویل ووڈہیمز کے مطابق، ''حکومتیں ٹو جی کی سہولت دے کر دنیا کو یہ تو دکھا سکتی ہیں کہ انہوں نے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی ہے، مگر آج کے دور میں اس کی سست روی اسے غیر موثر اور بے فائدہ کر دیتی ہے''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG