رسائی کے لنکس

logo-print

ایران پر نئی پابندیاں لگانےکا وقت آن پہنچا ہے: ہلری کلنٹن کا بیان


یہ بات ضروری ہوگئی ہےکہ ایران کے خلاف اضافی پابندیاں لگانےکا سوچا جائے، اور اِس معاملے پرامریکہ دوسری عالمی طاقتوں کےساتھ رابطےمیں ہے، جِن میں چین شامل ہے جو جلد تعزیری اقدام لینےکا مخالف ہے

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے جمعے کے روز کہا کہ ایران کے جوہری عزائم پر تشویش دور کرنے کی تجویزکے بارے میں اُس کی طرف سے واضح جوابی اقدام کی عدم دستیابی کے باعث اب وقت آگیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی قدغنیں عائد کی جائیں۔

چھ عالمی طاقتوں کے اعلیٰ عہدے دار جو ایران کے ساتھ نیوکلیئر سفارت کاری کے فرائض انجام دے رہے ہیں جمعے کو ٹیلی فون پر اپنا اجلاس منعقد کیا۔

باوجود اِس ہفتے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے مصالحت پسندانہ اظہارِ خیال کے، کلنٹن کا کہنا تھا کہ گذشتہ اکتوبر میں جوہری معاملے پر سمجھوتےسے متعلق پیش کردہ تجویز کے بارے میں ابھی تک ایران کوئی خاطرخواہ جواب نہیں دے پایا۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ بات ضروری ہوگئی ہے ایران کے خلاف اضافی پابندیاں لگانے کا سوچا جائے، اور یہ کہ اِس معاملے پر امریکہ دوسری عالمی طاقتوں کے ساتھ رابطے میں ہے، جِن میں چین شامل ہے جو جلد تعزیری اقدام لینےکا مخالف ہے۔

اِسی ہفتے کے آغاز پر ایرانی صدرنے کہا تھاکہ اُن کی حکومت کو کم افژودہ یورینئم بیرونِ ملک بھیجنے میں کوئی عار نہیں ہوگا اگر بدلے میں اُسے ری ایکٹر کے لیے زیادہ درجے کا افژودہ ایندھن موصول ہو۔

لیکن امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے اِی اے) کی طرف سے گذشتہ اکتوبر میں بدلے کے بندوبست کی تجویز پر ایران کی طرف سے باضابطہ رضامندی کا کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔ تجویز کے تحت ایک میڈیکل ری ایکٹر کے لیے افژودہ ایندھن کے بدلے ایران اپنے یورینئم کےزیادہ تر ذخیرےختم کردے گا۔

نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت میں، کلنٹن نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو ایران سے ملے جلے اشاراتی پیغامات مل رہے ہیں اور یہ کہ اضافی دباؤ ڈالنے کا وقت آ چکا ہے۔


چینی وزیرِ خارجہ یئنگ جے چی نے رواں ہفتے کہا تھا کہ پابندیوں کی بات جوہری معاملے پر سفارتی کوششو ں میں پیچیدگی کا باعث بن سکتی ہے، جن کے بارے میں اُن کا خیال تھا کہ وہ اب بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں۔


امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہاہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، اور جرمنی اور فائیو پلس ون ممالک سے تعلق رکھنے والے سینئر سفارت کاروں کی طرف سے جمعے کوہونے والی ٹیلیفون کانفرنس کال میں چین نے شرکت کی۔

چھ عالمی طاقتوں نے ایران کے ساتھ بین الاقوامی سفارت کاری کی سربراہی کی ہے، جس کا مقصد اِس عام تشویش کو دور کرنا ہے کہ ایران کی طرف سے یورینئم کی افژودگی جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیےہے، جب کہ ایرانی پُر امن مقاصد کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG