رسائی کے لنکس

logo-print

ایران کو آئى اے اِی اے سے بات کرنی چاہئیے: ہلری کلنٹن


امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے کی بجائے ، ایٹمی توانائى کی بین الاقوامی ایجنسی یا آئى اے اِی اے کے ساتھ بات کرنی چاہئیے۔

وزیرخارجہ کلنٹن نے منگل کے روز کہا ہے کہ ایران کو‘ آئی اے اِی اے کا پتا معلوم ہے’ اور اُسےجوہری معاملات کے نگراں اِس بین الاقوامی ادارے کے ساتھ مل بیٹھنا چاہئیے اور اُسے جوہری ایندھن کے ایک سمجھوتے سے متعلق اُس کی پیش کش کے جواب فراہم کرنے چاہئیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی ایک ایسے منصوبے پر بڑی محنت سے کام کررہے ہیں، جو یہ واضح کردے گا کہ ایران کی سرکشی کے نتائج کیا ہوں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ملکوں کے درمیان حالیہ مذاکرات کی ناکامی کے باوجود، یہ ملک ایران کے خلاف پابندیوں کے لیے جون کے وسط تک کسی سمجھوتے کی تکمیل خاطر کام کررہے ہیں۔

اس سے پہلے ایران کے وزیرِ خارجہ نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں پُر امید ہیں کہ ایران اور بین الاقوامی برداری کے درمیان جلد ہی جوہری ایندھن کے تبادلے کا کوئى سمجھوتا طے پا جائے گا۔

منوچہر متّکی نے منگل کے روز تہران میں اپنے برازیلی ہم منصب سَیلسو امورِم کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔

برازیل کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور بین الاقوامی برادری کو جوہری ایندھن کے سمجھوتے کے معاملے میں لازمی طور پر لچک کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔

انہوں نے کہا کہ اُن کا خیال ہے کہ اُس سمجھوتے کو دوبارہ اپنایا جاسکتا ہے جو پچھلے سال اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے طے پایا تھا۔لیکن ایران کو لازماً اس بات کی ضمانت فراہم کرنا ہوگی کہ اُس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے نہیں ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایٹمی توانائى کی بین الاقوامی ایجنسی کا تجویز کیا ہوا سمجھوتا، ایران کی جانب سے سمجھوتے کی شرائط میں تبدیلیاں کرنے پر اصرار کی وجہ سے تعطل میں پڑ گیا تھا۔اس سمجھوتے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کم افزودہ یورینیم کو تہران میں طبّی تحقیق کے ایک ری ایکٹر میں استعمال کے لیے جوہری ایندھن کی سلاخوں میں تبدیل کرنے کے مقصد سے کسی دوسرے ملک کو بھیج دے۔ایران اب تک اس مجوزہ سمجھوتے کی بعض شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔

ایران اقوامِ متحدہ کی نئى پابندیوں کو روکنے کے لیے خود اپنی سفارتی مہم کے تحت برازیل کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔اس سے پہلے ایران کی خبر رساں ایجنسیوں نے کہا تھا کہ امو رِم نے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر علی لاری جانی سے کہا ہے کہ ایران کے خلاف نئى پابندیاں”منفی اورغیر منصفانہ“ ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG