رسائی کے لنکس

اسے ہاتھ کا پنکھا نہ سمجھیں ، یہ' ہمت فین' ہے


اسے ہاتھ کا پنکھا نہ سمجھیں ، یہ' ہمت فین' ہے

"شدید گرمی اور طویل لوڈ شیڈنگ کی اب مجھے کوئی فکر نہیں، کیونکہ میرے پاس ہے ہمت فین ! اگر آپ بھی اس وقت کی سب سے بڑی مشکل یعنی لوڈ شیڈنگ سے نجات پانا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کو جہنم جیسی گرمی سے بچانا چاہتے ہیں تو فوری طور پر پائیدار اور اصل کھجور کے پتوں سے بنا ہاتھ والا پنکھا ”ہمت فین “ آزمائیں۔۔۔ پاکستان میں پہلی بار تیارکردہ اپنی نوعیت کا منفرد شاہکار ”ہمت فین “۔۔ جتنی ہمت ،اتنی ہوا۔۔۔ ”ہمت فین “ ۔ نام لے کر طلب کریں۔"

کیا آپ نے میڈیا پر اس سے قبل یہ اشتہار دیکھا ؟ نہیں!!! تو بہت جلد دیکھ لیں گے۔۔ کیونکہ یہ دور ہے ہاتھ سے ہلانے والے پنکھا کا۔

اسے ہاتھ کا پنکھا نہ سمجھیں ، یہ' ہمت فین' ہے
اسے ہاتھ کا پنکھا نہ سمجھیں ، یہ' ہمت فین' ہے

ویسے تو ہاتھ کا پنکھا کب سے زیر استعمال ہے ،اس کی کوئی تاریخ نہیں ملتی لیکن ہمارے بزرگوں نے اپنے دور میں اس کا بھر پور استعمال کیااوریہی وجہ ہے کہ یہ ہماری ثقافت کا حصہ بن گیا۔ مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ شہروں میں اس ثقافت کو بھلا دیا گیا جس پر اس پنکھے نے ان سے ایسا انتقام لیا کہ اب پنکھا ہلانے کے بجائے یہ خود جھولتے ہیں۔

پاکستان کے دیہی علاقوں میں پنکھے پر شوخ اوربھڑکیلے رنگ کے کپڑے کے غلاف بنا کر اس کو خوب عزت دی جاتی ہے ۔ اس غلاف پر مختلف انواع کی کشیدہ کاری ،چھوٹے چھوٹے شیشے ، اور کناروں پر لگی خوبصورت گوٹہ بیل یا جھالر سے اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ اس پر کتنی دل لگی اور محنت سے کام کیا گیا ہے اور یہ ہماری ثقافت کا کتنا اہم جزہے ۔

ایسے خوبصور ت بیل بوتے لگے غلاف میں لپٹے پنکھے گاؤں میں تقریباً ہر گھر میں ملیں گے ۔ اکثر انہیں سامنے والی دیوار پر اس طرح سے کیل میں لٹکا دیاجاتا ہے کہ گھر آئے مہمان کی پہلی نظر اسی پرپڑے اور وہ گھرکی خواتین کے سلیقے اور سگھڑ پن کاپہلے ہی اندازہ لگالے ۔

پنکھوں کا ہمارے معاشرے کی مختلف رسم و رواج میں بھی انتہائی اہم کردار ہے ۔ شادی کے وقت جب دلہن کو ڈھولی میں بیٹھا کر سسرال لے جایا جاتا ہے تو اس وقت بھی دلہن کو انتہائی خاص طریقے سے بنائے گئے پنکھوں سے ہوا کی جاتی ہے ۔یہ پنکھے عموماً دلہن نے خودتیار کیے ہوتے ہیں یا پھر اس کی بہن یا خاص سہیلی نے ۔

جس طرح پرانے زمانے میں کنیزیں بادشاہوں کے سرہانے کھڑے ہوکر پنکھا جھلا کرتی تھیں بالکل ایسے ہی گھر میں آنے والے بزرگوں پر بھی بچے یا خواتین پھنکا جھلاتے نظر آتے ہیں جسے بزرگ اپنے مرتبے میں اضافہ تصور کرتے ہیں ۔

اب سے کچھ عرصہ قبل تک کراچی سمیت دیگر شہروں میں بھی ہاتھ کے پنکھوں کا استعمال شاز و نادر ہی دکھائی دیتا تھاکیوں کہ اس کی جگہ الیکٹرک فین اور ائیرکنڈیشنڈز نے لے لی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان پنکھوں کی اہمیت، ایک ثقافتی ورثہ اور روایتی پہچان سے نئی نسل تقریباًنا آشنا ہوگئی تھی ، اگر چہ اس صورتحال سے پوری دنیا خوش تھی مگر پنکھا اپنی افادیت کھو جانے سے کسی طور پر بھی خوش نہیں تھا تاہم یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کا انتقام اتنا بھیانک ہو گا کہ اسے جھلنے والے ایک دن خود جھول جائیں گے ۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران پیدا ہونے والے بجلی کے بحران کی وجہ سے جب الیکٹرک فین اور دیگر آلات نے اپنی خدمات فراہم کرنے سے معذولی ظاہر کی تو عوام کو مجبوراً اسی ہاتھ کے پنکھے سے رابطہ کرنا پڑا جسے وہ بھول چکے تھے یا نا آشنا تھے ۔رفتہ رفتہ کراچی سمیت دیگر شہروں میں لوڈ شیڈنگ اتنی بڑھی کہ اب جب بھی بجلی نظر آتی ہے لوگ فکر مند ہوجاتے ہیں کہ اب گئی تو تب گئی۔اب یہی لوگ دوبارہ سے لوڈ شیڈنگ اور گرمی کا توڑ ۔۔۔یعنی ہاتھ کا پنکھا اپنے آس پاس رکھنے لگے ہیں کہ نا جانے کب اس کی ضرورت پڑھ جائے۔

بعض اوقات بجلی ہونے کے باوجود بھی خواتین کے ہاتھ میں پنکھا جھول رہا ہوتا ہے کیونکہ یہ ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے ۔ بعض اوقات پنکھا تو خاتون خانہ کے ہاتھ میں ہی رہتا ہے مگر نیند کی شدت سے خاتون بوجھل ہوجاتی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کسی بچے کے رونے کی آوازنہ آ جائے ۔

لیکن اتنی قربت کے باوجود خواتین ہمیشہ حسب معمول پنکھے سے بھی ناراض ہی نظر آتی ہیں ، کبھی تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ مسلسل پنکھا چلانے کے باعث ان کے ہاتھ میں چھالے پڑچکے ہیں ، کبھی بازو تھک جاتے ہیں ،کبھی اس کے سبب نیند پوری نہیں ہوتی تو کبھی اس کی قیمت میں اضافے سے پریشان ہوجاتی ہیں ۔

جس گھر میں اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں یعنی بچوں اور بچیوں کی بہتات ہو اور سب میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ پنکھے کا بوجھ برداشت کر سکیں وہاں پنکھا چلانے کے لئے باقاعدہ نمبر لگایا جاتا ہے۔ بعض اوقات صورتحال انتہائی کشیدہ بھی ہو جاتی ہے اور تصادم بھی کا بھی خدشہ ہوتا ہے ، لہذا اس تمام تر صورتحال کی نگرانی وزارت داخلہ یعنی خاتون خانہ کو سختی سے کرنی ہوتی ہے ۔

اس تمام تر صورتحال میں مردوں کا کردار انتہائی محدود ہے ۔وہ زیادہ تر خاموش اور سنجیدہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر ذرا سی بھی مسکراہٹ چہرے پر آتی تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بچوں اور خاتون خانہ سمجھیں گے کہ موڈ اچھا ہے اور پنکھا آپ کو تھما دیں گے اور پھر وہ لمحہ ایک پچھتاوا بن جائے گا جب وہ مسکرائے تھے ۔

XS
SM
MD
LG