رسائی کے لنکس

کراچی میں دیوالی کا جشن، نصب شب تک پٹاخوں کا شور


'' ہم اپنے وطن اور اپنی حکومت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ سرحدوں پر انتہائی کشیدگی کے باوجود ہم بے فکری سے یہاں رہ رہے ہیں۔ آپ خود دیکھ لیجئے سب لوگ کس قدر خوش اور آزادانہ ماحول میں دیوالی منارہے ہیں''

کراچی میں اتوار کو ہندو برادری نے اپنا سب سے بڑا مذہبی تہوار، ’دیوالی‘ نہایت جوش و خروش کے ساتھ منایا۔ رام سوامی، رنچھوڑ لائن، نارائن پورا اور اولڈ سٹی ایریا میں جہاں جہاں بھی ہندو برادی کی اکثریت ہے وہاں دن بھر دیئے، دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں، رنگ اور خوشبوئیں فروخت ہوتی رہیں۔

شام ہوتے ہی مندروں میں عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ شری سوامی نارائن مندر کمپلیکس ایم اے جناح روڈ میں اس حوالے سے سب سے بڑا اجتماع ہوا۔ یہ کراچی کا 135 سال پرانا مندر ہے۔ مندر میں کئی مقامات پر لگے سنگ مرمر پر اس مندر کی مختصر تاریخ کنندہ ہے۔

کمپلیکس تقریباً 5000 گز پر مشتمل ہے جہاں ہزاروں افراد رہائش پذیر ہیں۔ نند لال بھی اسی آبادی کے قدیم رہائشی بزرگ ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ سیوا منڈل کراچی کے صدر بھی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ '’دیوالی اس بار امن کا پیغام لائی ہے۔ یہ دونوں مذاہب کے درمیان میل ملاپ کا سندیسہ لائی ہے۔'‘

ایک سوال پر نند لال نے بتایا ’'ہم اپنے وطن اور اپنی حکومت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ سرحدوں پر انتہائی کشیدگی کے باوجود ہم بے فکری کے یہاں رہ رہے ہیں، آپ خود دیکھ لیجئے سب لوگ کس قدر خوش اور آزادانہ ماحول میں دیوالی منارہے ہیں۔ لڑکیاں رنگولی بنانے میں مصروف ہیں۔ لڑکے دیئے جلا رہے ہیں۔'‘

ایک اور شہری ہری چند نے بتایا کہ ''دیوالی ہر سال آتی ہے اور ہماری خوشیوں کو دوبالا کرجاتی ہے۔ یہ برائی پر جیت کی فتح ہے۔ دیوالی پر بچے بوڑھے سب مل کر پٹاخے جلاتے ہیں مگر ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے اس بار نوجوان اور بوڑھے تو خاموش ہیں مگر بچے کہاں ماننے والے ہیں۔ منع کرنے کے باوجود تھوڑے بہت پٹاخے دلانا ہی پڑے۔‘‘

ایک خاتون شیلا نے بتایا ’'میں تو آج ہی صبح لاہور سے کراچی پہنچی ہوں۔ تہواروں کا مزہ اپنوں کے ساتھ ہے اس لئے یہاں آگئی وہاں تو پتہ ہی نہیں چلتا کب کون سا تہوار آیا۔ دیوالی پر میں بہت دل سے رنگولی مناتی ہوں میری چھوٹی بہن پچھلے سال تک میرے ساتھ ہی تھی مگر اس سال وہ شادی کرکے میرپور خاص چلی گئی ہے اس لئے اب سہیلوں کے ساتھ رنگولی بنائی ہے۔ ‘‘

تاہم، اسی کمپلیکس کے ایک اور رہائشی نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے جیسے سال گزر رہے ہیں دیوالی کا مزہ پھیکا پڑتا جا رہا ہے۔ تمام اچھے حالات کے باوجود ہندوؤں برادی ملک چھوڑ چھوڑ کر جارہی ہے ۔ کمپلیکس کے متعدد مکانات آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ بغیر چراغاں اداس کھڑے ہیں۔ ان مکانوں کے زیادہ تر رہائشی بھارت گئے ہوئے ہیں یا پھر مہینوں سے دبئی میں ہیں۔ جس کو جہاں سے بھی کوئی آسرا ہوتا ہے وہ چلاجاتا ہے ۔‘‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’بعض افراد کی مخصوص سوچ کو بدلنا مشکل ہے۔ انہیں جیسے ہی موقع ملتا ہے دونوں طرف کے افراد کو لڑادیتے ہیں۔ جذباتی لوگ طیش میں آجاتے ہیں اور پھر جو کچھ ہوتا ہے اس کے نتائج اچھے ثابت نہیں ہوتے۔ ایک دوسرے کے مذاہب کے لئے میں فراخ دلی اور برداشت بہت ضروری ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG