رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں ہندو برادری نے منایا ایک خاص تہوار، ’بھنڈارا‘


یہ تہوار کراچی ائیرپورٹ کے نزدیک واقع وائرلیس گیٹ کے علاقے میں قائم ’موریا خانوٹ‘ نامی بستی میں منایا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس بستی کو آپ سے متعارف کرانے میں وی او اے پہل کر رہا ہو۔ یہاں ہر سال ایک تہوار منایا جاتا ہے جس کا نام ہے ’بابا رام دیو بھنڈارا فیسٹول‘ ہے

ہولی، دیوالی، رکشا بندھن، دسہرا، جنم اشٹمی اور گنیش اتسو جیسے مشہور تہواروں کے بارے میں آپ بہت کچھ جانتے ہوں گے۔ لیکن، ایک تہوار ایسا بھی جس کے بارے میں لوگ کم کم جانتے ہیں۔ یہ تہوار اندرون سندھ کے ساتھ کراچی میں بھی بہت اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے، خاص کر کراچی ائیرپورٹ کے نزدیک واقع وائرلیس گیٹ کے علاقے میں قائم ’موریا خانوٹ‘ نامی بستی میں۔

ہوسکتا ہے اس بستی کو آپ سے متعارف کرانے میں وی او اے پہل کر رہا ہو۔ یہاں ہر سال ایک تہوار منایا جاتا ہے جس کا نام ہے ’بابا رام دیو بھنڈارا فیسٹول‘ ہے، جو بہت دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اور اس میں ہندوبرادری کے اراکین بڑی تعداد میں شریک ہوکر خوشیاں مناتے اورخصوصی پوجا کا اہتمام کرتے ہیں۔

کراچی میں یہ تہوار گزشتہ شب منایا گیا ۔اس موقع پر موریا خانوٹ کی ہر گلی کوچے کو برقی قمقموں سے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ بچے، بڑے، جوان، بوڑھے سب ہی تہوار کی خوشیوں میں مگن نظر آئے۔

پاکستان ہندو سیوا کے صدر رنجیش ایس دھنجہ نے وائس آف امریکہ کو تہوار سے متعلق تفصیلات میں تبایا کہ بھنڈارا فیسٹیول ہر سال ’بھدوا‘ کے آخری دن منایا جاتا ہے۔

بھدوا کیا ہوتا ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے پاکستان ہندو میواڑی پنچائیت کے رکن روی روشن کھوکھر نے بتایا کہ ’بھدوا‘ ہندومت میں روزوں کا مہینہ ہوتا ہے جس کے آخری دن ہندو برادری پنڈتوں کے سامنے اپنا ’اپواس‘ یا روزہ کھولتی ہے۔ اس موقع پر جشن کا سماں ہوتا ہے۔ جس رات یہ تہوار منایا جاتا ہے وہ پونم کی رات ہوتی ہے یعنی پورے چاند کی رات۔‘

تہوار کا خاص اہتمام علاقے میں واقع ’رام دیو پیر مندر‘ میں کیا جاتا ہے۔ ہندو برادری کے ارکان بڑی تعداد میں یہاں آکر ماتھا ٹیکتے اور خصوصی دعائیں مانگتے ہیں۔

ساتھ ساتھ بابا رام دیو پیر کے نام کا خصوصی پرچم بھی لہرایا جاتاہے۔ بعدازاں، پرشاد تقسیم کیا جاتا ہے اور کراچی کے مختلف علاقوں سے آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔

پنچائیت کے رکن پرکاش پربھو کا کہنا ہے کہ فیسٹیول کی رات بھجن گائے جاتے ہیں جن میں بابا رام دیو پیر کو خراج عقیدت پیش کیا جاتاہے۔

بابا رام دیو کون ہیں؟
ہندو دیوتا کرشنا کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے 24روپ ہیں اور ’بابا رام پیر‘ انہی کا ایک روپ ہے۔ بابا رام دیو پیر کے ماننے والوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ بابا ۔۔ کرشن کے اوتار ہیں جنہیں بھگوان کرشنا نے لوگوں کے دکھ درد دور کرنے کے لئے زمین پر بھیجا۔‘

پنچائیت کے 57 سالہ نائب صدر کشور گنگا رام کے مطابق ’بابا رام دیو کا تہوار اور اس موقع پر ہونے والا میلہ گزشتہ 40 سال سے باقاعدگی سے منعقد کیا جارہا ہے۔ سندھ کے علاقے ٹنڈوالہہ یارمیں تو اس کا اور بھی زیادہ اور بڑے پیمانے پر اہتمام ہوتا ہے۔‘

رینجرز اور پولیس کی نگرانی
پنچائیت کے صدر پیارے لال کھوکھر کا کہنا ہے کہ علاقہ مکینوں یا حکام کی جانب سے ان کے تہوار منانے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں، بلکہ رینجرز خود نگرانی اور سیکورٹی کی پیشکش کرتے ہیں جبکہ تہوار کی رات پولیس بھی امن و امان کی صورتحال کو مانیٹر کرتے ہیں۔

پیارے لال کھوکھر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’پاکستان کو ایک کامیاب ملک اور قوم بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں بسنے والی ہر برادری اور مذہبی اقلیت کا احترام کیا جائے اور ہم آہنگی کے ساتھ مل جھل کر رہا جائے۔‘

XS
SM
MD
LG