رسائی کے لنکس

ڈاکٹر رمیشن کمار کا یہ بھی کہنا تھا آج ہر دلہن کو ایک لاکھ روپے کا جہیز دیا جا رہا ہے۔ لڑکے کو روز گار بھی فراہم کیا جارہا ہے، جبکہ مالی تعاون بھی کیا گیا۔ جہیز میں الیکٹرونکس سمیت دیگر 20 بڑے آئٹمز بھی شامل ہیں

اتوار کا دن پاکستان میں آباد ہندؤ برادری کے لئے انتہائی خوشی کا باعث تھا۔ ایک جانب ان کا سالوں پرانا مطالبہ پورا ہوگیا۔ صدر ممنون حسین نے دونوں ایوانوں سے پاس ہونے والے 'ہندو میرج بل' پر دستخط کرکے اسے باقاعدہ قانون کی شکل دے دی تو دوسری جانب کراچی میں اجتماعی شادی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں 62 جوڑے ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے ہوگئے۔

اجتماعی شادی کی تقریب اتوار کی شام کراچی میں ہوئی جس میں گورنر سندھ محمد زبیر نے بھی شرکت کی جبکہ تقریب کے منتظم، قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ کے اقلیتی رہنما، اور پاکستان ہندو کونسل کے چیف پیٹرن ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی سمیت متعدد اہم شخصیات شامل تھیں۔

تقریب میں دلہا اور دلہن کے اہل خانہ سمیت سینکڑوں مہمانوں نے شرکت کی۔ ہر دلہن کو ایک لاکھ روپے مالیت کا جہیز اور دلہا کو زورگار کے لئے مالی مدد اور چنگ چی رکشہ بھی بطور تحفہ دیا گیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، پاکستان ہندو کونسل کے صدر ہوت چند کرمانی اور تنظیم کی رکن کنول اور ایڈووکیٹ روپ مالا سنگھ نے 'وائس آف امریکہ' سے خصوصی بات چیت کی۔

رمیش کمار وانکوانی کا کہنا تھا کہ ’’آج ہندو بردری کےلئے بہت بڑا دن ہے ، اس کا پچھلے 70سالوں سے درپیش مسئلہ ہوگیا ہے۔ برادری کی شادیوں کو ہندو میرج ایکٹ نہ ہونے کے سبب قانونی حیثیت حاصل نہیں تھی۔ یہاں تک کہ ہندو جوڑے بیرون ملک بھی سفر نہیں کرسکتے ہیں، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کا بھی مسئلہ درپیش تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’'پاکستان ہندو کونسل نے شادیوں کی رجسٹریشن کے لئے ناصرف آواز اٹھائی بلکہ کونسل ہی شادی کی رجسٹریشن اور دستاویزی ثبوت فراہم کرتی تھی۔ شادیوں کو قانونی حیثیت دینے کے لئے اجتماعی شادی کی بنیاد ڈالی۔‘'

انہوں نے مزید بتایا کہ کونسل سال میں 100 ہندو جوڑوں کی شادی اجتماعی طور پر کرنے کے انتظامات کرتی ہے۔ اجتماعی شادیوں کا سلسلہ پچھلے 12 سال سے جاری ہے اور اب تک سینکڑوں اجتماعی شادیاں ہوچکی ہیں۔

ڈاکٹر رمیشن کمار کا یہ بھی کہنا تھا آج ہر دلہن کو ایک لاکھ روپے کا جہیز دیا جا رہا ہے۔ لڑکے کو روزگار بھی فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ مالی تعاون بھی کیا گیا۔ جہیز میں الیکٹرونکس سمیت دیگر 20 بڑے آئٹمز بھی شامل ہیں۔

رمیش کمار کے مطابق ’’اجتماعی شادیوں کا سب سے بڑا فائدہ غریبوں کو ہوتا ہے جن کے پاس شادی کے اخراجات برداشت کرنے کے بھی پیسے نہیں ہوتے حالانکہ ہندو دھرم میں شادی ایک فریضے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ زندگی بھر کا بندھن ہوتا ہے ایک دفعہ شادی ہوگئی تو پھر علیحدگی یا طلاق کی مذہبی طور پر کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔‘‘

پاکستان ہندو کونسل کے صدر انجینئر ہوت چند کرمانی نے بتایا کہ ’’شادیوں کا سالانہ انعقاد ثقافتی تقریب میں ڈھل گیا ہے۔ پاکستان اور خصوصاً سندھ بھر کے کونے کونے میں رہنے والے جوڑے یہاں سدا کے لئے شادی مقدس بندھن میں بندھ جاتے ہیں ۔ ‘‘

مالی تعاون کے حوالے سے ہوت چند کرمانی کا کہنا ہے کہ ’’اس بار کچھ مالیاتی اداروں اور مارئشیس کے اعزازی قونصل خانے نے تعاون کیا ہے، جبکہ دیگر مخیر ادارے بھی ہم سے تعاون کر رہے ہیں اور کرتے ہیں‘‘۔

ہندو کونسل کے رکن، کنول کا کہنا تھا کہ ’’شادی کے وقت کونسل کی طرف سے غریب اور مستحق مردوں کو رکشے اور خواتین کو سلائی مشین فراہم کی جاتی ہے، تاکہ وہ اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں۔‘‘

رمیش کمار کے بقول،‘‘ہندو میرج ایکٹ کے نفاذ کے بعد اجتماعی شادیوں کی تقریبات مزید اہمیت کی حامل ہوگئی ہیں۔ اب کونسل اجتماعی شادیوں کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلائے گی۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG