رسائی کے لنکس

’’پاکستانی حکومت کٹاس راج مندر کی دیکھ بھال میں ناکام رہی‘‘


پاکستان کے ضلع چکوال میں کٹاس راج مندر کمپلیکس۔ فائل فوٹو

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے ، ’’یہ مندر محض ہندوؤں کیلئے ایک ثقافتی اہمیت کا مقام ہی نہیں ہے بلکہ یہ قومی ورثے کا ایک حصہ بھی ہے۔‘‘

کٹاس راج مندر کمپلیکس پنجاب کے ضلع چکوال میں واقع ہے۔اسے قلعہ کٹاس بھی کہا جاتا ہے۔ اس کمپلیکس میں متعدد ہندو مندر ہیں جو راہداریوں کے راستے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسے قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے ، ’’یہ مندر محض ہندوؤں کیلئے ایک ثقافتی اہمیت کا مقام ہی نہیں ہے بلکہ یہ قومی ورثے کا ایک حصہ بھی ہے۔‘‘یہ مندر کمپلیکس ہندوؤں کیلئے پنجاب کا دوسرا سب سے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

اس کمپلیکس میں ’ست گراہا‘ یعنی سات قدیمی مندر، مہاتما بدھ کا ایک مجسمہ، پانچ دیگر مندر اور حویلیاں شامل ہیں جو کٹاس سے موسوم ایک تالاب کے گرد واقع ہیں جسے ہندو مقدس قرار دیتے ہیں۔یہ مندر زیادہ تر چوکور شکل کے ہیں۔ اس کا نام کٹاس سنسکرت سے ہے جس کے معنی ’آنسو بھری آنکھیں‘ ہیں۔ ہندوؤں کا اعتقاد ہے کہ کٹاس تالاب اُس وقت معرض وجود میں آیا جب ہندو بھگوان شیوا اپنی بیگم ستی کے انتقال پر آنسوؤں سے روئے تھے۔

اس مندر کا ذکر مقدس کتاب مہا بھارت میں بھی موجود ہے ۔ مہا بھارت میں بتایا گیا ہے کہ پنداوا بھائیوں نے جلاوطنی کا زیادہ وقت یہیں گزارا تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق ہندو دیوی کرشنا نے کٹاس مندر کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔

یہ مقام تقسیم ہند سے قبل بھارت کے تمام علاقوں کے ہندوؤں کیلئے زیارت کا اہم مرکز تھا۔ تاہم 1965 کی جنگ کے بعد اس کی زیارت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جو 1984 تک جاری رہی۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ کمپلیکس حکام کی عدم توجہی کا شکار رہا اور اس کی حالت مخدوش ہوتی گئی۔ پاکستانی ہندو گاہے بگاہے زیارت کیلئے وہاں جاتے رہے لیکن وہ بھی اتنے بڑے کمپلیکس کی دیکھ بھال پر اٹھنے والے اخراجات کے متحمل نہ ہو سکے۔ اس کے تالاب میں کوڑا کرکٹ پھینکے جانے سے اس کا پانی آلودہ ہو گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بزرگ راہنما لال کرشنا ایڈوانی نے بھی 2005 میں اس مندر کا دورہ کیا تھا اور اس کی مخدوش حالت پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

کٹاس راج کا تالاب۔ فائل فوٹو
کٹاس راج کا تالاب۔ فائل فوٹو

پاکستانی حکومت نے اس کے اگلے برس 2006 میں مندر کی بحالی کا کام شروع کیا جب تالاب کے پانی کو صاف کرنے، یہاں موجود مندروں کو دوبارہ پینٹ کرنے اور تمام تر کمپلیکس میں اطلاعاتی بورڈز کی تزئین و آرائش کے احکامات جاری کئے گئے۔ اسی سال ہندوؤں کے تہوار ’شوراتری‘ کے موقع پر بھارت سے لگ بھگ 300 ہندوؤں نے اس مقام کی زیارت کی۔ بعد میں 2010 اور پھر 2011 میں پاکستان بھر سے آنے والے 2000 ہندوؤں نے یہاں یہ روایتی تہوار منایا۔ اس سال شوراتری کے موقع پر یہاں خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو جوڑے کی شادی بھی ہوئی۔

اس سال فروری میں بھارت سے 200 ہندو یاتری کٹاس راج دھم تہوار کے موقع پر اس کمپلیکس کی زیارت کیلئے پہنچے۔ تاہم اس کمپلیکس کی دیکھ بھال مناسب انداز میں جاری نہ رہ سکی۔ اب سپریم کورٹ نے تاریخی کٹاس راج مندر کمپلیکس میں موجود مقدس تالاب کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنے پر حکم دیا ہے کہ حکومت اس کوتاہی کی تحقیقات کیلئے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا ہے کہ اس تالاب کو ایک ہفتے کے اندر پانی سے بھر دیا جائے چاہے اس کیلئے پانی ’مشکیزوں میں بھر کر ہی کیوں نہ لانا پڑے‘۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ ہر قیمت پر پاکستان میں موجود ہندوؤں کے حقوق کی حفاظت کرے گی۔

کمپلیکس کے آس پاس سینٹ کے کارخانوں کی طرف سے زیادہ مقدار میں پانی حاصل کرنے کی خاطر بہت سے کنویں کھود نے کے باعث تالاب کے نیچے پانی کی سطح بہت کم ہو گئی ہے۔

پاکستانی حکومت نے اس کمپلیکس میں موجود سات مندروں کیلئے 5 کروڑ 10 لاکھ روپے کی لاگت سے بھارت، سری لنکا اور نیپال سے مختلف ہندو دیوتاؤں اور دیویوں کی مورتیاں منگوائی ہیں جس کیلئے محکمہ آثار قدیمہ کے تین رکنی وفد نے حال ہی میں ان ممالک کا دورہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG