رسائی کے لنکس

ایڈز کے مریضوں کو محبت اور ہمدردی کی ضرورت ہے: ماہرین


فائل
فائل

ماہرین نے اِس جانب توجہ دلائی ہے کہ اس بیماری کے بارے میں لاعلمی کی بنا پر یہ پھیل رہی ہے۔ دوسری جانب، اس بیماری سے متاثرہ افراد سماج میں بدنامی یا رسوائی کے خوف سے اس مرض کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں

دنیا بھر میں ’ایچ آئی وی ایڈز‘ کا عالمی دن منایا گیا۔ اس دِن کی مناسبت سے ماہرین اور سرگرم کارکنوں نے اس بیماری کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں آگہی کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اُنھوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ اس بیماری کے بارے میں لاعلمی کی بنا پر یہ پھیل رہی ہے۔

دوسری جانب، اس بیماری سے متاثرہ افراد سماج میں بدنامی یا رسوائی کے خوف سے اس مرض کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صورت حال ترقی پذیر ملکوں میں ہی نہیں، بلکہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔

امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی امریکی ماہر، ڈاکٹر عدیل بھٹ نے اردو سروس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ کیفیت امریکہ کے بڑے شہروں میں تو نہیں، لیکن چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں موجود ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق، امریکہ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 10 لاکھ ہے۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ نئی دوائیوں کے استعمال سے اس مرض کی شدت پر قابو پانے میں کافی مدد مل رہی ہے اور اگر باقاعدگی کے ساتھ دواؤں کا استعمال کیا جائے تو زندہ رہنے کی عمر نارمل کے قریب ہوسکتی ہے۔

اُنھوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ ترقی پذیر ملکوں میں اس کے پھیلنے کی وجہ کم علمی اور وسائل کی کمی ہے، جب کہ ترقی یافتہ ملکوں میں حکومتوں کی طرف سے کافی فنڈنگ مہیا کی جاتی ہے اور بہت سے ایسے ادارے ہیں جو اس سلسلے میں سرگرم ہیں۔

ڈاکٹر عدیل بھٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ میں جنوب کی ریاستیں اس مرض سے سب سے زیادہ متاثر بتائی جاتی ہیں۔

تاہم، اُنھوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ اُن کے زیر علاج بہت سے مریض ایسے ہیں جو مستقل دیکھ بھال کی وجہ سے صحیح زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ اُن کو یہ مرض لاحق ہوئے 12 سال یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔

پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد 94000 کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ تاہم، اسلام آباد سے ہمارے نمائندے محمد اشتیاق کو پاکستان نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے ایک عہدیدار، عبدالبصیر خان اچکزئی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس وقت پاکستان مین ایچ آئی وی کے صرف 14000 ہی ایسے مریض ہیں جو رجسٹر کیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے علاج معالجے کے لیے 21 مراکز قائم کیے ہیں، جب کہ بعض دوردراز کے علاقوں میں، جہاں اس کا زیادہ خطرہ محسوس کیا جاتا ہے، وہاں کمیونٹی کی بنیاد پر مراکز بھی قائی کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین اور ایچ آئی وی ایڈز کے اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس پر کنٹرول کے لیے علاج کے علاوہ آگہی کے عمل کو تیز کرنا اور سماجی شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔

اس مرض کے شکار افراد کے عزیز و اقارب اور تمام لوگوں کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایسے متاثرہ افراد ہمدردی اور محبت کے مستحق ہیں اور اسی طرح اُنھیں نئی اور کارآمد زندگی کی نوید مل سکتی ہے۔ اسے کلنک کا ٹیکہ یا رسوائی کا سبب خیال کرنا نامناسب ہوگا۔

XS
SM
MD
LG