رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا انکشاف


رپورٹ میں بتایا گیا کہ دس سالوں میں پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں 17.6 فیصد کی شرح سے سالانہ اضافہ ہوا۔

پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز سے ہونے والی اموات میں گزشتہ برسوں میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا ہے جسے اس مرض سے متاثرہ افراد کے لیے کی جانے والی ناکافی طبی تدابیر کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بات امریکہ میں یونیورسٹی آف واشنگٹن کے انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلیوایشن کی مرتب کردہ ایک رپورٹ میں بتائی گئی جو کہ ایڈز سے متعلق جنوبی افریقہ میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق 2005ء میں پاکستان میں اس مرض سے ہونے والی اموات کی تعداد 350 تھی جو کہ 2015ء میں 1480 ریکارڈ کی گئی جو 14.42 فیصد سالانہ اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان دس سالوں میں پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں 17.6 فیصد کی شرح سے سالانہ اضافہ ہوا۔

سرکاری اندازوں کے مطابق ملک میں اس موذی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 94 ہزار ہے جن میں سے صرف 14 ہزار کے لگ بھگ افراد ہی باقاعدہ اندراج کے ساتھ ملک میں قائم ایڈز کنٹرول سنٹرز سے ادویات لے رہے ہیں۔

تاہم غیر سرکاری اندازے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔

ایڈز ایک لاعلاج مرض ہے لیکن ایسی ادویہ موجود ہیں جن سے اس وائرس سے جسم میں ہونے والے نقصانات کو سست یا کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ایڈز اور اس سے بچاؤ سے متعلق شعور اجاگر کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم "ایوارڈ" کی عہدیدار میمونہ نور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس رپورٹ کے نتائج سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال میں بہتری کے لیے قومی سطح پر مربوط اور موثر کوششوں کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک عرصے سے جاری آگاہی مہم کے باجود اب بھی عام لوگ اس مرض سے متعلق بات کرتے ہوئے شرماتے اور گھبراتے ہیں اور اس کی وجہ اس بیماری کو صرف غیر محفوظ جنسی اختلاط سے جوڑا جانا ہے۔

"یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں ہے اس کے معاشی اور سماجی پہلو بھی ہیں۔۔۔ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مربوط کوششیں کی جانی چاہیئں۔"

چھ سال قبل ملک کے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد سے بہت سے شعبے مرکز سے صوبوں کو منتقل کر دیے گئے تھے جن میں صحت کا شعبہ بھی شامل ہے۔

دیگر ماہرین کی طرح میمونہ نور بھی یہ کہتی ہیں کہ صوبوں کو منتقلی کے بعد دیگر بیماریوں کے علاوہ خاص طور پر ایڈز کی روک تھام کی کوششیں بھی موثر انداز میں جاری نہیں رہ سکیں جس کی وجہ اس بارے میں وسائل کی کمی بتائی جاتی ہے۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایڈز کے علاج کے لیے مراکز قائم کرنے کے علاوہ لوگوں میں اس بیماری سے متعلق آگاہی مہم بھی چلائی جاتی ہے لیکن اس میں معاشرے کے سب ہی طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تا کہ اس مرض سے متاثرہ لوگ علاج کے لیے اسپتالوں اور خصوصی مراکز میں جانے سے نہ ہچکچائیں۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ملک بھر میں ایسے مراکز کی تعداد بھی بڑھائی جا رہی ہے جہاں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی مفت تشخیص اور انھیں ادویہ فراہم کی جاتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG