رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کے بیانات پر حزب اللہ کی نکتہ چینی


لبنان میں حزب اللہ کے ایک عہدے دار نے اپنی تنظیم کے ہتھیاروں کے ذخیرے کے بارے میں امریکہ کے بیانات پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

پارلیمنٹ کے رکن حسن فضل اللہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ صرف ”فوج کشی کرنے ، قبضہ کرنے اور جارحیت“ کے کام آتے ہیں۔ اور اِن ہتھیاروں اور اُن ہتھیاروں کے درمیان فرق ہے ، جو ”تحفظ اور آزادی “ فراہم کرتے ہیں۔

اُن کا یہ بیان بدھ کے روز لبنان کے اخبار السّفیر نے شائع کیا ہے۔

منگل کے روز امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا تھا کہ ایران اور شام حزب اللہ کے عسکریت پسند لوگوں کو جدید راکٹوں اور میزائیلوں سے مسلح کررہے ہیں۔گیٹس نے اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود بارک کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ دنیا میں بیشتر حکومتوں کے مقابلے میں حزب اللہ کے پاس زیادہ راکٹ اور میزائیل ہیں۔

تاہم امریکی وزیرِ دفاع نے اسرائیل کے اس دعوے کو نہیں دہرایا کہ شام حزب اللہ کو دُور مار سکڈ میزائیل فراہم کررہا ہے۔

XS
SM
MD
LG