رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر: حزب المجاہدین کے اہم کمانڈر ریاض نائیکو جھڑپ میں ہلاک


(فائل فوٹو)

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کے مطابق مقامی عسکری تنظیم حزبِ المجاہدین کے اہم کمانڈر ریاض احمد نائیکو پلوامہ میں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپ میں ریاض نائیکو کے ایک قریبی ساتھی کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔ لیکن تاحال اُن کی شناخت نہیں ہو سکی۔

ریاض نائیکو عرف محمد بن قاسم عرف زبیر کو 2016 میں کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد تنظیم کا آپریشنل کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔

برہان وانی کو آٹھ جولائی 2016 کو ضلع اننت ناگ کے علاقے کوکر ناگ میں جھڑپ کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بھارت کی حکومت نے ریاض نائیکو کے سر کی قیمت 12 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ بھارت کی وزارتِ داخلہ نے جون 2019 میں ریاض کا نام سب سے مطلوب 'دہشت گردوں' کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

ایک اعلیٰ پولیس عہدے دار امتیاز حسین نے ریاض نائیکو کے اپنے ساتھی سمیت مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ گاؤں میں گھر گھر تلاشی کے دوران محصور عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جو ریاض نائیکو اور اُن کے ساتھی کی ہلاکت کے بعد ختم ہوا۔

ریاض نائیکو کی ہلاکت کو بھارتی سیکیورٹی فورسز کی اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

کارروائی سے قبل سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں مواصلاتی سہولیات معطل کر دیں جب کہ ریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعد بھی مختلف علاقوں میں موبائل فون سروس بند رہی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان اطلاعات پر کی گئی کہ حزب المجاہدین کا کمانڈر اپنے قریبی ساتھی کے ساتھ پلوامہ کے ایک گاؤں میں موجود ہے۔ لہذٰا فورسز نے پلوامہ کے علاقے بیگ پورہ سے ملحقہ کئی دیہات کو منگل کی رات ہی گھیرے میں لے لیا تھا۔

ریاض نائیکو کا تعلق پُلوامہ کے بیگ پورہ گاؤں سے تھا اور وہ 2012 میں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر مسلح جدوجہد میں شامل ہو گئے تھے۔

ریاض نائیکو سوشل میڈیا پر خاصے متحرک تھے۔ حال ہی میں اُنہوں نے ایک آڈیو پیغام میں مسلح کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف بھارتی فوج کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

پولیس کے مطابق بدھ کو ہی پلوامہ کے ایک اور علاقے شرشالی کھریو میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں دو مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعت 'تحریک حریت' کے سربراہ محمد اشرف صحرائی کا بیٹا جنید اشرف بھی شامل ہے۔

حالیہ دنوں میں کلگام، اننت ناگ، شوپیان، پلوامہ اور کشتواڑ میں متعدد سرچ آپریشن کیے گئے۔ عسکریت پسندوں نے ضلع کپواڑہ کے ہندوارہ علاقے میں ہفتے اور پیر کو پیش آنے والے دو واقعات میں فوج کے دو اور پولیس کے ایک سفر سمیت آٹھ اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

ان جھڑپوں میں دو مشتبہ عسکریت پسند کے علاوہ ایک مقامی شہری بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

حکام کے مطابق بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس سال تشدد کے واقعات میں 120 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں 78 مشتبہ عسکریت پسند، 27 سیکیورٹی اہلکار اور 15 عام شہری شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG