رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ مظاہرے: عدالتی حکم پر ہوائی اڈا کھول دیا گیا


ہانگ کانگ احتجاج (فائل فوٹو)

ہانگ کانگ کی عدالت نے حکم دیا ہے کہ مظاہرین مقرر کردہ مقامات کے علاوہ کسی دوسرے مقام پر احتجاج کر کے روزمرہ کے معمولات پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ عدالت نے مظاہرین کے احتجاج کے باعث جزوی طور پر بند ہونے والے ایئرپورٹ کو فوری طور پر کھولنے کا بھی حکم دیا ہے۔

ہانگ کانگ میں مظاہرین گزشتہ دو ماہ سے حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ پیر کے روز مظاہرین ایئر پورٹ کے لاؤنج میں پہنچ گئے تھے۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

مظاہرین کے احتجاج کے باعث ہانگ کانگ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فلائٹ آپریشن معطل ہو گیا جس سے سینکڑوں پروازیں منسوخ ہو گئیں۔

احتجاج کی وجہ سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والے تمام راستے بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

پیر کے روز سیاہ ماسک پہنے مظاہرین کی بڑی تعداد ایئر پورٹ کی حدود میں جمع ہو گئی اور ہانگ کانگ کی سربراہ کیری لام اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔

مظاہرین ایئر پورٹ لاؤنج میں موجود ہیں۔
مظاہرین ایئر پورٹ لاؤنج میں موجود ہیں۔

پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، مشتعل مظاہرین نے ایئرپورٹ کے اندر توڑ پھوڑ بھی کی۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر مرچوں کا سپرے بھی کیا گیا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حالیہ مظاہروں کے دوران پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔

چین کا ردعمل

فرانسیسی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹس میں شمار ہونے والے ہانگ کانگ ایئرپورٹ پر شٹ ڈاؤن کی صورت حال سے چین کی حکومت کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔ چین نے پر تشدد مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'دہشت گردی' قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ ہانگ کانگ 1997 تک برطانیہ کی کالونی تھا۔ تاہم، یکم جولائی 1997 کو ایک معاہدے کے تحت یہ علاقہ چین کے زیر اثر آ گیا تھا۔

جون میں ہانگ کانگ کی حکومت نے ایک قانون متعارف کروایا تھا جس کے تحت ہانگ کانگ میں جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات چین میں چلانے کی تجاویز شامل تھیں۔ اس بل کے خلاف ہانگ کانگ میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے جس کے بعد حکومت نے یہ بل واپس لے لیا تھا۔

مظاہرین کا موقف تھا کہ چین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے کی شکایات عام ہیں۔ لہذٰا، یہ بل ہانگ کانگ کے عوام کے ساتھ نا انصافی ہے۔ مظاہرین نے ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رکھا ہے۔

مظاہرین ہانگ کانگ کی سربراہ کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین ہانگ کانگ کی سربراہ کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا موقف ہے کہ انہیں ہانگ کانگ کے نئے لیڈر کے انتخاب کے سلسلے میں منصفانہ اور آزادانہ ووٹ دینے کا اختیار دیا جائے، جب کہ پولیس کی طرف سے ہونے والی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کروائی جائیں۔

ہانگ کانگ کے ہوائی اڈے پر جاری احتجاجی مظاہرے پولیس کی بھاری نفری کے وہاں پہنچنے کے بعد مزید شدت اختیار کر گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG