رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ: تیاننمن سکوائر میں کریک ڈاؤن کی یاد میں تقریب


1989 میں چین نے تیاننمن سکوائر میں ہفتوں سے جاری مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے فوج اور ٹینکوں کا استعمال کیا تھا۔

ہانگ کانگ میں جمعرات کو چین میں 1989 میں تیاننمن سکوائر میں جمہوریت کے حق میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی یاد میں موم بتیاں جلا کر سالانہ تقریب منعقد کی جائے گی۔

اس موقع پر ہزاروں مظاہرین نے ہانگ کانگ کے وکٹوریہ پارک میں ریلی نکالی۔ یہ ریلی ہانگ کانگ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے رائے شماری سے چند دن قبل ہو رہی ہے۔

چینی حکومت کے حمایت یافتہ ایک منصوبے پر 17 جون کو ہانگ کانگ کی مقننہ میں رائے شماری کی جائے گی۔ اس منصوبے کو جمہوریت نواز سرگرم کارکنوں نے ایک مذاق قرار دیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت پہلی مرتبہ عوام کو علاقے کے چیف ایگزیکٹیو کو منتخب کرنے کا اختیار ہو گا، مگر امید واروں کو انتخاب میں حصہ لینے کے لیے ایک بیجنگ نواز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہو گی۔

جمہوریت نواز سرگرم کارکنوں نے گزشتہ سال سات ہفتوں تک اس منصوبے کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے۔ مظاہرین کا مقصد بیجنگ اور ہانگ کانگ کے حکام کو اس منصوبے کو ختم کرنے اور عوام کو عالمگیر حقِ رائے دہی کے وعدے کو نبھانے کے لیے قائل کرنا تھا۔ مگر حکام مظاہرین کو کوئی رعایت دیے بغیر منتشر کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

1989 کے برعکس اس دوران تشدد کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔ 1989 میں چین نے تیاننمن سکوائر میں ہفتوں سے جاری مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے فوج اور ٹینکوں کا استعمال کیا تھا۔ مختلف اندازوں کے مطابق اس واقعے میں چند سو سے لے کر چند ہزار کے درمیان افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جمعرات کو سنٹرل بیجنگ سکوائر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ خبررساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق پولیس وہاں سے ایک درمیانی عمر کی عورت کو اٹھا کر لے گئی۔ اس عورت نے پلاسٹک سے بنا ہوا گلاب کا پھول اٹھا رکھا تھا۔

بیجنگ حکام تیاننمن سکوائر کے واقعے پر کھلی بحث کی اجازت نہیں دیتے۔ ملک میں انٹرنیٹ سنسرشپ کے اہلکار سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر اس سفاکانہ کریک ڈاؤن کی کسی بھی تذکرے یا حوالے کو ہٹا دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG