رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ: انتخابی اصلاحات منصوبے میں مظاہرین کے مطالبات نظرانداز


جب بدھ کو اس مجوزہ منصوبے کو پیش کیا گیا تو جمہوریت کے حامی کئی قانون ساز احتجاجاً قانون ساز ادارے کی عمارت سے باہر نکل گئے۔

ہانگ کانگ کی بیجنگ نواز حکومت نے جمہوریت کے حامی مظاہرین کے مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔

بدھ کو پیش کی جانے والی ان مجوزہ اصلاحات کے مطابق چین کے اس نیم خود مختار خطے کے عوام پہلی بار 2017 میں اپنا سربراہ منتخب کر سکیں گے۔

تاہم بیجنگ کا اصرار ہے کہ اس عہدے کے انتخاب میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کی اس کی ایک کمیٹی سے منظوری لازمی ہے۔

حزب اختلاف کے قانون سازوں نے اس مجوزہ منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جعلی جمہوریت کے قیام کی ایک کوشش قرارد یا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب مجوزہ منصوبہ اس سال رائے شماری کے لیے پیش کیا جائے گا تو وہ اس کو مسترد کر دیں گے۔

جب بدھ کو اس مجوزہ منصوبے کو پیش کیا گیا تو جمہوریت کے حامی کئی قانون ساز احتجاجاً قانون ساز ادارے کی عمارت سے باہر نکل گئے۔

مظاہرین بھی عمارت کے باہر جمع ہو گئے جن میں سے کئی ایک حکومت کے حق میں پوسٹراٹھائے ہوئے تھے جبکہ دوسروں نے پیلی چھتریاں اٹھا رکھی تھیں جو جمہوریت نواز تحریک کی علامت ہے۔

جمہوریت کے حامی سرگرم کارکنوں نے گزشتہ سال کے اواخر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے اور سڑکوں پر دھرنے دیے تھے۔

بیجنگ اور ہانگ کانگ کے عہدیداروں نے مظاہرین کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تھا اور دوسری طرف ان دھرنوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں زبردستی ختم کروا دیا تھا۔

برطانوی نوآبادی رہنے والے ہانگ کانگ کو 1997ء میں چین کو واپس ملنے کے بعد ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کے اصول کے تحت آزادی اور خود مختاری کے وسیع حقوق حاصل ہیں جو چین کے شہریوں کو حاصل نہیں ہیں۔

ہانگ کانگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس وقت زیادہ سے زیادہ انہی انتخابی اصلاحات کی توقع کی جا سکتی ہے اور انہوں نے جمہوریت نواز رہنماؤں پر اس منصوبے کی حمایت پر زور دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG