رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ: مظاہرین اور حکومت میں مذاکرات کا لائحہ عمل طے


ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو لیونگ چن ینگ نے پیر کو کہا تھا کہ حکومت "جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات میں مخلص ہے۔"

ایک ہفتے سے زائد عرصے تک ہانگ کانگ کے مختلف حصوں میں معمولات زندگی کو مفلوج کر دینے والے جمہوریت نواز مظاہرین کے رہنماوں نے جمہوری اصلاحات کے اپنے مطالبے پر حکام سے مذاکرات کے بعد ایک لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔

پیر کو مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کی رکاوٹیں ہٹا دی تھیں اور کئی دنوں کے بعد سرکاری ملازمین اپنے دفاتر جا سکے۔

ہانگ کانگ فیڈریشن آف اسٹوڈنٹس کے لیسٹر شم نے ہانگ کانگ کے حکومتی عہدیداروں اور مظاہرین کی قیادت کے درمیان آئندہ کی ملاقاتوں کے لیے جزیات طے کیں۔

اس حکمت عملی کے تحت فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہانگ کانگ کی حکومت ان مذکرات میں طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری کرے گی۔

دونوں کے درمیان منگل کو بھی ملاقات ہونے جا رہی ہے۔

شم کا کہنا تھا کہ "مخصوص موضوعات، مذاکرات کا مقام اور ایسی ہی مزید تفصیلات آئندہ رات ہونے والی ملاقات میں طے کی جائیں گی۔"

ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو لیونگ چن ینگ نے پیر کو کہا تھا کہ حکومت "جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات میں مخلص ہے۔"

مظاہرین بیجنگ کے حامی چیف ایگزیکٹو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یہ لوگ چین کی طرف سے ہانگ کانگ میں2017ء کے انتخابات کے امیدواروں کی چھان بین کے فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج رہے۔

1997ء میں بیجنگ کی طرف سے اس خطے کا انتظام و انصرام سنبھالے جانے کے بعد سے ہانگ کانگ میں یہ شدید ترین بدامنی تھی۔

XS
SM
MD
LG