رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ: مظاہروں کے پیچھے 'غیر ملکی طاقتیں' ہیں، چیف ایگزیکٹو


لیونگ کے اس بیان سے قبل حال ہی میں چین کے سرکاری میڈیا نے اپنے ایک تبصرے میں امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں پر ان مظاہروں کو استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے جمہوریت نواز مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی طاقتیں ہیں۔

اتوار کو دیر گئے ایک ٹی وی انٹرویو میں ہانگ کے چیف ایگزیکٹو لیونگ چن ینگ کا کہنا تھا کہ کئی ہفتوں سے جاری مظاہرے کلی طور پر ایک مقامی تحریک نہیں ہے۔

تاہم انھوں نے کسی ملک یا گروپ کا نام بتانے سے انکار کیا جن کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ وہ ان مظاہروں کے پیچھے ہو سکتے ہیں۔ لیونگ کے اس بیان سے قبل حال ہی میں چین کے سرکاری میڈیا نے اپنے ایک تبصرے میں امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں پر ان مظاہروں کو استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ہانگ کانگ میں گزشتہ تین ہفتوں سے جمہوریت نواز مظاہرین چیف ایگزیکٹو سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے خطے میں 2017ء میں ہونے والے انتخابات کے امیدواروں کی چھان بین کرنے کے بیجنگ کے فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

مظاہرین نے شہر کے مرکزی کاروباری علاقے میں دھرنا بھی دے رکھا ہے جس سے حکام کے بقول معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس دوران مظاہرین کی متعدد بار پولیس سے جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔ اتوار ہی کو مونگ کاک کے علاقے میں پولیس نے ایک بار پھر مظاہرین پر ہلہ بولا اور اس ہاتھا پائی میں کم ازکم 20 افراد زخمی ہوئے۔

حکومت مظاہرین سے مذاکرات کرنے کا اعلان کر چکی ہے اور عہدیداروں کے مطابق یہ منگل کو شروع ہو سکتے ہیں۔

چیف ایگزیکٹو کہہ چکے ہیں کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ لیکن بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ امیدواروں کی چھان بین کا فیصلہ واپس نہیں لے گا اور نہ ہی مزید انتخابی اصلاحات کرے گا۔

XS
SM
MD
LG