رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ: مظاہروں والے مقام کو وا گزار کرنے کا عمل شروع


ان مظاہروں کے منتظمین میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والی ہانگ کانگ طلبا فیڈریشن کے رہنماؤں نے اپنے حامیوں کو کہا ہے کہ نہ تو وہ حکام کی مزاحمت کریں اور نہ ان سے الجھیں۔

ہانگ کانگ میں حکام نے مظاہرے کی جگہ کے کچھ حصوں کو صاف کرنا شروع کر دیا ہے جہاں ستمبر سے مظاہرین نے قبضہ کیا ہوا تھا۔

عدالتی اہلکاروں کو منگل کی صبح شہر کے تجارتی مرکز میں حکومتی ہیڈ کوارٹر کے قریب ایڈمرلٹی کے علاقے سے سڑک پر نصب رکاوٹوں کو ہٹاتے دیکھا گیا ہے۔

مظاہرین کی طرف سے کسی طرح کی بھی مزاحمت نہیں کی گئی جبکہ کچھ نے پہلے ہی اپنے خیمے اور اپنی چیزوں کو قریب ہی ایک دوسری جگہ منتقل کر دیا۔

گزشتہ ہفتے ہانگ کانگ کی ہائی کورٹ نے مظاہرین کو اس علاقے اور اس کی دوسری طرف بندرگاہ کے قریب مانگ کاک کے علاقے کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا حکام اس فیصلے کا نفاذ مانگ کاک کے علاقے میں بھی شروع کریں گے۔

احتجاجی جگہ کو صاف کرنے کا کام اس وقت ہو رہا ہے جب ہانگ کانگ کی چینی یونیورسٹی کی طرف سے کروائے گئے ایک سروے میں عوامی رائے میں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ جس میں اکثریت کا یہ کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کو اب ختم ہونا چاہیے۔

ان مظاہروں کے منتظمین میں سب سے اہم کردار ادا کرنے والی ہانگ کانگ طلبا فیڈریشن کے رہنماؤں نے اپنے حامیوں کو کہا ہے کہ نہ تو وہ حکام کی مزاحمت کریں اور نہ ان سے الجھیں۔

مانگ کاک میں مظاہرین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ اس علاقے کو خالی کرنے پر تیار ہیں۔ می جو چاہتی تھی کہ اس کی شناخت اس کے خاندانی نام سے ہی کی جائے نے کہا کہ مظاہرین آخری دم تک عدم تشدد پر کارب ند رہیں گے۔

'آکوپائی موومنٹ' کی حمایت کرنے والے منتظمین کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ جب مظاہرین کو سڑکوں سے ہٹا دیا جائے گا تو اس کے بعد وہ ایک اجلاس کا انعقاد کریں گے جس میں مستقبل کے لائحہ عمل کے بار ے میں بات کی جائے گی۔

مظاہرین 2017 میں مکمل جمہوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگست میں چین کی طرف سے یہ قانون پاس کیا گیا کہ چیف ایگزیکٹو کے انتخاب میں حصہ لیے والے تمام امیدواروں کی منظوری ایک کمیٹی دے گی جو چین نواز ارکان پر مشتمل ہو گی۔

اس اعلان کے بعد ہانگ کانگ میں مظاہرے شروع ہو گئے اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ہانگ کے چیف ایگزیکٹو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور چین اپنا حکم واپس لے۔ لیکن بیجنگ کا یہ کہنا ہے کہ یہ مظاہرے غیر قانونی ہیں اور وہ اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کرے گا۔

XS
SM
MD
LG