رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ: جمہوریت نواز مظاہرین کا ایک بار پھر احتجاج


مظاہرے کے منتظمین میں شامل ڈیزی چن کا کہنا ہے کہ " ہم حکومت کو یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ– ہم سب کے لیے حق رائے دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں"۔

ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مظاہرین نے گزشتہ سال کی طرح ایک بار پھر شہر کی سڑکوں پر اتوار کو مظاہرہ کیا۔

لگ بھگ 12,000 مظاہرین نے شہر کے اقتصادی مرکز میں مظاہرہ کیا اور ان کے ساتھ پولیس کی ایک بھاری تعداد بھی موجود رہی تاکہ مظاہرین گزشتہ سال کی طرح شہر کے مرکزی حصے پر قبضہ نہ کر لیں۔

گزشتہ برس ان مظاہرین نے ڈھائی ماہ تک شہر کے مرکزی حصے میں دھرنا دیے رکھا تھا۔

اتوار کو ہونے والے مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں مکمل جمہوریت کےمطالبہ پر اب بھی قائم ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وہ پرامن ہیں اور وہ دوبارہ دھرنا دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

مظاہرین 2017ء میں ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو کے چناؤ مکمل طور پر جمہوری طریقے سے کروانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اتوار کو ہونے والے مظاہرے کے منتظمین میں شامل ڈیزی چن کا کہنا ہے کہ " ہم حکومت کو یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ– ہم سب کے لیے حق رائے دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں"۔

مظاہرین "ہم حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں" کے نعرے لگا رہے تھے تاہم مظاہرے کے متظمین کی توقعات سے کم لوگوں نے اس مظاہر ے میں شرکت کی جبکہ ان کا اندازہ تھا کہ اس میں پچاس ہزار افراد شرکت کریں گے۔

برطانوی نوآبادی رہنے والے علاقے ہانگ کانگ کو 1997ء میں چین کو واپس ملنے کے بعد "ایک ملک اور دو نظام" کے اصول کے تحت آزادی اور خود مختاری کے وسیع حقوق حاصل ہیں تاہم کئی حلقے بیجنگ کے بڑھتے ہوئے کنڑول کے متعلق تشویش کا اظہارکرتے ہیں۔

بیجنگ کا کہنا ہے کہ 2017ء میں چیف ایگزیکٹو کے انتخابات میں حصہ لینے والوں کی چھان بین کی جائے گی جس کے بارے میں مقامی جمہوریت پسند رہنما اور ان کے حمایتی اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ جمہوریت پسند اُمیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG