رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ میں چین کی حمایت یافتہ انتخابی اصلاحات مسترد


بل کی شکست کا مطلب ہے کہ ہانگ کانگ کے سب سے اعلیٰ عہدیدار کا انتخاب ماضی کی طرح ایک الیکشن کمیٹی ہی کرے گی۔ بیجنگ نے کہا ہے کہ وہ علاقے کو اس سے زیادہ خود مختاری دینے کے لیے تیار نہیں۔

ہانگ کانگ کے قانون سازوں نے چین کی حمایت یافتہ انتخابی اصلاحات کے ایک متنازع منصوبے کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔ مجوزہ منصوبے نے علاقے کے حکومت نواز اور حکومت مخالف دھڑوں کو منقسم کر رکھا تھا۔

حزبِ اختلاف کی طرف سے متحد ہو کر اس بل کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد جمہوریت نواز کیمپوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ صرف آٹھ قانون سازوں نے اس کے حق میں جبکہ 28 قانون سازوں نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالے۔

سِوِک پارٹی کے سربراہ ایلن لیونگ نے کہا کہ ’’آج ہم نے اپنا مقدس ووٹ عالمگیر حق رائے دہی کے ایک جھوٹے منصوبے کو مسترد کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ ہم نے ہانگ کانگ کے لوگوں کی طرف سے بیجنگ کو ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ ہم حقیقی معنوں حق انتخاب چاہتے ہیں۔‘‘

اگر یہ قانون منظور ہو جاتا تو ہانگ کانگ کے عوام کو پہلی مرتبہ علاقے کا سربراہ چننے کا اختیار حاصل ہوتا، مگر انتخاب میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کو بیجنگ نواز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا پڑتی۔

چین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ 1997 میں ختم ہونے والے سو سالہ برطانوی راج میں دی جانے والی مراعات کے مقابلے میں زیادہ جمہوریت پسند تھا۔

گزشتہ سال وسیع پیمانے پر احتجاج کرنے والے جمہوریت نواز سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی طرف سے امیدواروں کی جانچ کی تجویز جمہوری نہیں تھی اور 2017 تک عالمگیر حقِ رائے دہی کے وعدے کو پورا نہیں کرتی تھی۔

بل کی شکست کا مطلب ہے کہ ہانگ کانگ کے سب سے اعلیٰ عہدیدار کا انتخاب ماضی کی طرح ایک الیکشن کمیٹی ہی کرے گی۔ بیجنگ نے کہا ہے کہ وہ علاقے کو اس سے زیادہ خود مختاری دینے کے لیے تیار نہیں۔

چین نے مجوزہ بل کی بھرپور شکست پر ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ بل کی شکست سے علاقے کی 70 ارکان پر مشتمل مقننہ میں بیجنگ کی حمایت کے بارے میں سوالات نے جنم لیا ہے۔

ووٹنگ کے دن ایک چونکا دینے والے والا واقعہ یہ تھا کہ رائے شماری شروع ہونے سے چند منٹ قبل بہت سے حکومت نواز قانون ساز ایوان سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔ بعد میں انہوں نے اس کو ایک غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ وہ ووٹنگ کو مؤخر کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ ان کے ایک بیمار ساتھی قانون ساز بھی ووٹ ڈال سکیں۔

تاہم حزب مخالف کے کچھ قانون سازوں کو اس بات پر یقین نہیں آیا۔ ڈیموکریٹیک پارٹی کی قانون ساز ایمیلی لاؤ نے اس حرکت کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا۔

اگرچہ اس بل کی شکست کو حزب مخالف کی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، مگر یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ دونوں دھڑوں کے درمیان اس مسئلے پر تعطل سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال، کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مظاہروں میں ہانگ کانگ کے لاکھوں باشندے ’’مکمل جمہوریت‘‘ کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

چین کے اس علاقے میں سکیورٹی معمول سے زیادہ سخت ہے۔ اس ہفتے پولیس نے کیمیائی مادوں کا ایک ذخیرہ اپنے قبضے میں لے لیا اور 10 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں سے چھ کے خلاف دھماکا کرنے کی سازش کا الزام لگایا گیا ہے۔

حکام نے مبینہ بم سازش کے بارے میں بہت کم تفصیلات فراہم کی ہیں جس کے بارے میں حزب مخالف کے کچھ کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ جمہوریت نواز تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، جو زیادہ تر پرامن رہی۔

XS
SM
MD
LG