رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان، غیرت کے نام پر گیارہ ماہ میں 30 خواتین قتل


بلوچستان میں صرف گیارہ ماہ کے دوران 30خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیاجاچکا ہے ۔ عورتوں کے ساتھ ساتھ 19مردوں کو بھی اسی مدت میں قتل کیا گیا یوں سال رواں کے دوران اب تک غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین اور مردوں کی مجموعی تعداد 76ہوگئی ہے ۔

غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کو روکنے کے لئے غیر سرکاری تنظیم ’عورت فاؤنڈیشن ‘ نے اتوار سے 16 روزہ آگاہی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے ۔ ساتھ ہی تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی خواتین کی حیثیت کے حوالے سے صوبائی کمیشن تشکیل دیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ ادارے کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2018 کے گیارہ ماہ میں ہر دوسرے دن ایک عورت قتل یا تشدد کا نشانہ بنی ۔صوبے میں 138 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں 51 خواتین ، 25 مرد قتل ہوئے جن میں سے 30 خواتین اور 19 مرد غیر ت کے نام پر قتل کئے گئے ، 14 خواتین نے گھر یلو حالات سے تنگ آکر خو دکشی کر لی ہے، 13 خواتین اغوا ہوئیں، خواتین سے زیادتی کے چار اور اُن پر تیزا ب پھینکنے کے واقعات رونما ہوئے ہوئے۔

بلوچستان میں خواتین کے قتل اور ان پر تشد د کے حوالے سے تنظیم کی جانب سے سالانہ رپورٹ پیش کر تے ہوئے تنظیم کے رہنما افسر محمد اشفاق مینگل کا کہنا تھا کہ خواتین و مردوں کے غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے سلسلے کو روکنے کے لئے صوبائی حکومت فوری طور پراقدامات اُٹھائے۔

میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا ’ ہم حکومت سے مطالبہ کر تے ہیں کہ کم عمر ی کی شادی روکنے سے متعلق بل بلوچستان اسمبلی سے منظور کر ا یا جائے جبکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ تیزاب سے متاثرہ خواتین کی بحالی اور آباد کاری کےلئےجلد از جلد بل اسمبلی میں پیش کرے ۔‘

انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ تمام سر کاری اور غیر سرکاری اداروں میں مرد و خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون کو نافذ کیا جائے ، عوامی سطح پر لوگوں میں اس قانون سے متعلق آگاہی کو یقینی بنایا جائے ۔قانون پر عملدر آمد کو یقینی بنانے کےلئے صوبائی محتسب کا جلد تقر ر کیا جائے۔ گھریلو سطح پر ہونے والے تشدد کے خلاف بنائے گئے قانون کو لاگو کرنے کےلئے قواعد و ضوابط تشکیل دئے جائیں۔

بلوچستان میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کےلئے فروری 2014 میں صوبائی اسمبلی نے قانون سازی کی تھی لیکن اس قانون کی شقوں پر اب تک خا طرخواہ عملدر درآمد ممکن نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے تشدد کے واقعات تواترسے رپورٹ ہو رہے ہیں اور 2009 سے بیس نومبر 2018 تک تشدد کے مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد 950 سے زیادہ ہوگئی ہے۔

XS
SM
MD
LG