رسائی کے لنکس

نیویارک میں اسپتال لائے جانے والے مریضوں کی تعداد کم ہونے لگی


کرونا وائرس نے سب سے بڑا حملہ امریکی ریاست نیویارک پر کیا ہے۔ یہاں مریضوں کی تعداد دنیا کے تمام ملکوں سے زیادہ ہے، یعنی ایک لاکھ 60 ہزار۔ اموات کی تعداد سیکڑوں میں نہیں، ہزاروں میں ہے۔ اٹلی، اسپین اور فرانس کے سوا کسی اور ملک میں اتنے لوگ نہیں مرے۔

ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو ہر روز میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں۔ ان کی دکھ بھری گفتگو میں کوئی اچھی خبر نہیں ہوتی۔ لیکن جمعرات کو ان کے لہجے میں امید کی جھلک تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اموات کم نہیں ہوئیں، لیکن مریضوں کی تعداد پہلے جیسی رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ شاید یہ اشارہ ہے کہ وبا کا عروج گزر گیا ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں میں نیویارک کے اسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریض پہنچ رہے تھے۔ ہر روز پہلے سے 20 فیصد سے بھی زیادہ۔ اس ہفتے یہ تعداد 10 فیصد سے کم ہوگئی ہے۔

گزشتہ 24 گھںٹوں میں صرف 200 مریض اسپتالوں میں داخل کیے گئے۔ گورنر کومو کہتے ہیں کہ رفتار یہ رہی تو جلد اسپتال میں داخل مریضوں کی تعداد کم ہونا شروع ہوجائے گی۔

البتہ، اموات کی تعداد کم نہیں ہوئی۔ 24 گھنٹوں کے دوران 799 افراد چل بسے۔ اتنے کسی ملک میں بھی نہیں ہلاک ہوئے۔ گورنر کومو نے چند دن پہلے بتایا تھا کہ وبا کے ختم ہونے تک ریاست میں 14 ہزار ہلاکتیں ہوچکی ہوں گی۔ ان میں سے نصف ہوچکی ہیں۔

گورنر کومو ٹرمپ انتظامیہ سے بار بار تقاضا کرتے رہے ہیں کہ انھیں مزید وینٹی لیٹرز فراہم کیے جائیں، کیونکہ بدترین حالات کے لیے ان کے پاس کم مشینیں اور کم سامان ہے۔ لیکن، اب انھیں اطمینان ہے کہ صورتحال مزید نہ بگڑی تو ان کے پاس مریضوں کو سنبھالنے کے لیے ضرورت کے مطابق وینٹی لیٹرز موجود ہیں۔

اس وقت نیویارک کے اسپتالوں میں 1925 مریض انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں ہیں اور ان کی جان بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نیویارک سٹی کے مئیر بل ڈی بلیسیو کہہ چکے ہیں کہ شہر میں روزانہ سیکڑوں افراد گھروں پر انتقال کر رہے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہیں۔ لیکن، چونکہ ان کے ٹیسٹ نہیں ہوئے اس لیے ان کے بارے میں معلوم نہیں ہورہا۔

گورنر کومو نے بتایا کہ وائرس سے سب سے زیادہ افریقی امریکن اور ہسپانوی امریکن متاثر ہوئے ہیں اور ان کے علاقوں میں ٹیسٹ بڑھانے کے لیے مزید مراکز قائم کیے جائیں گے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، نیویارک شہر میں مرکزی کوئنز کے علاقے کورونا، ایلم ہرسٹ اور جیکسن ہائٹس کرونا وائرس کا گڑھ ہیں۔ چھ لاکھ کی آبادی میں سات ہزار سے زیادہ مریض سامنے آچکے ہیں۔ مین ہٹن کی آبادی تین گنا زیادہ ہے لیکن وہاں مریضوں کی تعداد دس ہزار ہے۔

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ نیویارک میں کرونا وائرس فروری میں پہنچ گیا تھا اور اسے ایشیا کے بجائے یورپ سے آنے والوں نے پھیلایا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG