رسائی کے لنکس

logo-print

ماسکو میں تاریخ کا گرم ترین موسم سرما


اس سال موسم سرما میں ماسکو میں بہنے والے دریائے موسکوا کے یہ روایتی مناظر دکھائی نہیں دیے۔ سردیوں کا درجہ حرارت معمول سے ساڑھے چار ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

روس کے دارالحکومت ماسکو میں جہاں روایتی طور پر سردیوں کے موسم میں ہر طرف برف دکھائی دیتی ہے، ماضی کے برعکس ایک مختلف منظر پیش کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ روس کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ جب سے موسم کا ریکارڈ رکھا جانے لگا ہے، یہ ماسکو کی تاریخ کا گرم ترین موسم سرما ہے۔

روس کے موسمیات کے مرکز کے سربراہ رومان ولفانڈ نے میڈیا کو بتایا کہ روس میں دسمبر سے فروری تک جو اوسط درجہ حرارت رہتا ہے، اس سال کا اوسط درجہ حرارت ماضی میں سردیوں کے ریکارڈ کے مقابلے میں ساڑھے چار ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ ہے۔ اس سے پہلے گرم ترین موسم سرما دسمبر 1960 سے فروری 1961 کا ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سردیوں میں اتنے زیادہ درجہ حرارت کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے بتایا کہ روس میں 140 سال پہلے موسم کا ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

موسمیاتی مرکز کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مجھے توقع ہے کہ ہم اتنا گرم موسم سرما شاید دوبارہ نہ دیکھیں۔ ماہرین دنیا کے مختلف حصوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو گلوبل وارمنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

اس سے قبل موسمیاتی ماہرین یہ کہہ چکے ہیں کہ 2019 کا سال روس کی تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہوا ہے۔ ماسکو میں رہنے والے معمر افراد بتاتے ہیں کہ وہ عشروں سے انتہائی سرد اور مشکل موسم سرما دیکھتے آ رہے ہیں، جب ہر طرف برف دکھائی دیتی تھی اور یخ ہوائیں جسم کے آر پار ہو جاتی تھیں۔

روس کی قیادت بھی سردیوں میں درجہ حرارت بڑھنے کا اعتراف کرتی ہے۔ صدر ولادی میر پوٹن کہہ چکے ہیں کہ روس میں درجہ حرارت میں اضافہ دنیا کے دوسرے مقامات کے لحاظ سے ڈھائی فی صد زیادہ ہوا ہے۔

تاہم، صدر پوٹن درجہ حرارت میں اضافے کو گوبل ورامنگ کے اثرات کی بجائے نظام شمسی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ آب و ہوا کی تبدیلی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG