رسائی کے لنکس

2019 تاریخ کا گرم ترین سال بن گیا


امریکی ریاست کیلی فورنیا میں گرمی سے نڈھال ایک مزدور اپنی پیاس بجھا رہا ہے۔ فائل فوٹو

گزرنے والا سال 2019، آنے والے برسوں میں شدید اور ناقابل برداشت موسموں کی نشاندہی کر رہا ہے۔ 2019 میں دنیا کے مختلف حصوں میں گرمی کے متعدد سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے اور خاص طور پر جولائی میں پڑنے والی گرمی کی مثال کم ہی ہے۔

موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سے موسموں کا ریکارڈ رکھا جانے لگا ہے، 2019 ان پانچ برسوں کی صف میں شامل ہو گیا ہے، جو گرم ترین سال شمار ہوتے ہیں۔

ناسا کی رپورٹ کے مطابق، 2019 کے جولائی میں دنیا کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت بیسویں صدی کے اوسط درجہ حرارت سے 1.71 ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ رہا، جس نے اسے تاریخ کے پانچ گرم ترین برسوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ جولائی 2017 کا درجہ حرارت اس کے قریب ترین تھا۔

گرمی کا ذمہ دار انسان خود ہے

زمین کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کا ذمہ دار خود حضرت انسان ہے۔

انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں، کرہ ارض کے قدرتی فضائی نظام کو درہم برہم کر رہی ہیں۔ اکثر مقامات پر اوزون کی تہہ میں بڑے بڑے شگاف پڑ چکے ہیں اور کئی جگہوں پر اس کی پرتیں اتنی باریک ہو گئی ہیں کہ وہ خلا سے آنے والی مضر شعاعوں کو روکنے کے قابل نہیں رہیں۔

انٹار کٹیکا میں ہزاروں برسوں سے منجمد گلیشیئرز پگھل رہے ہیں۔
انٹار کٹیکا میں ہزاروں برسوں سے منجمد گلیشیئرز پگھل رہے ہیں۔

کاربن گیسوں کا بڑھتا ہوا اخراج کرہ ارض کے درجہ حرارت کو بڑھا رہا ہے جس کے نتیجے میں صدیوں سے خاموش پڑے ہوئے گلیشیئرز تیزی سے پگھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ سمندر کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر پہاڑوں پر جمی تمام برف پگھل گئی تو سمندر کی سطح 230 فٹ تک بلند ہو جائے گی جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے تمام ساحلی شہر ڈوب جائیں گے اور ہزاروں جزیروں کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ یہ یاد رہے کہ دنیا کے بہت سے گنجان آباد ملک جزائر پر مشتمل ہیں اور بہت سے جزائر سطح سمندر سے بھی نیچے ہیں۔

کارخانوں کی چمینیوں سے نکلنے والا دھواں کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کا ایک اہم سبب ہے۔
کارخانوں کی چمینیوں سے نکلنے والا دھواں کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کا ایک اہم سبب ہے۔

ہمارے زیادہ تر دریا پہاڑوں کی برف پگھلنے سے بنتے ہیں۔ اگر پہاڑوں پر برف ہی نہ رہی تو صورت حال تشوش ناک ہو جائے گی، کیونکہ دنیا کی 40 فی صد آبادی دریاؤں پر انحصار کرتی ہے۔

ریکارڈ درجہ حرارت اور ہلاکتیں

گزشتہ سال گرمی کی لہر سے فرانس میں 1500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ گرمی کی شدت کا مقابلہ کرنے کے لیے قطر کو عمارتوں سے باہر کھلی جگہوں پر بھی ایئر کنڈیشننگ کرنی پڑی۔

پاکستان اور بھارت میں کئی مقامات پر درجہ حرارت 124 ڈگری فارن ہائیٹ تک ریکارڈ کیا گیا۔ گرمی کی شدید لہر ایشیا تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات دیگر براعظموں میں بھی محسوس کیے گئے۔

بھارت میں گرمی کی شدت سے پریشان ایک مزدور پانی پی رہا ہے۔ فائل فوٹو
بھارت میں گرمی کی شدت سے پریشان ایک مزدور پانی پی رہا ہے۔ فائل فوٹو

زمین کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت سمندری طوفانوں کا سبب بن رہا ہے، جس سے نہ صرف ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ان کی زد میں آ کر بڑی تعداد میں لوگ بھی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب، گلوبل وارمنگ سے دنیا کے کئی حصے شدید خشک سالی اور قحط کا نشانہ بن رہے ہیں۔

گلوبل وارمنگ اور عالمی کانفرنسیں

ماہرین نے آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق پیرس کی عالمی کانفرنس میں زمین کو رہنے کے قابل رکھنے کے لیے کرہ ارض کا درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے دو ڈگری زیادہ کی سطح پر واپس لانے پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن، گزشتہ سال دسمبر میں اسپین کے شہر میڈرڈ میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں کئی ملکوں کے درمیان اہم نکات پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

گلوبل وارمنگ پر پیرس کانفرنس کے موقع پر سرگرم کارکن ایفل ٹاور کے قریب مظاہرہ کر رہے ہیں۔
گلوبل وارمنگ پر پیرس کانفرنس کے موقع پر سرگرم کارکن ایفل ٹاور کے قریب مظاہرہ کر رہے ہیں۔

امریکہ سمیت کئی ممالک پیرس معاہدے پر عمل نہیں کر رہے، جس سے عالمی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پچھلے دو عشروں میں زمین کے درجہ حرارت میں تقریباً ایک ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے۔

گرمی کے انسانی صحت پر اثرات

بڑھتا ہوا درجہ حرارت ان تمام لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے جنہیں گھروں سے باہر نکلنا پڑتا ہے؛ جب کہ اپنے گھروں کو ٹھنڈا کرنے کی استطاعت نہ رکھنے والے غریب ہمہ وقت گلوبل وارمنگ کے نشانے پر ہیں۔

بڑھتا ہوا درجہ حرارت انسانی جسم پر براہ راست منفی اثر ڈالتا ہے، جس سے اعصاب پر دباؤ پڑتا ہے اور ہیٹ سٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچا درجہ حرارت گردے کے امراض کا سبب بنتا ہے اور اس سے دل اور سائنس کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

گرمی کے نتیجے میں بچے قبل از وقت پیدا ہو سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں اپنی زندگی میں صحت کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

گرمی کی شدت سے بے ہوش ہونے والے ایک مریض کو ایمرجینسی میں لایا جا رہا ہے۔ گرمی کی لہر سے کراچی میں 1200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جون 2015
گرمی کی شدت سے بے ہوش ہونے والے ایک مریض کو ایمرجینسی میں لایا جا رہا ہے۔ گرمی کی لہر سے کراچی میں 1200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جون 2015

زمین کا درجہ حرارت کیسے کنٹرول کیا جائے؟

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھنے سے روکنے اور اسے مناسب سطح پر لانے کا واحد طریقہ کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی ہے۔ کاربن گیسیں زیادہ تر معدنی ایندھن جلانے سے پیدا ہوتی ہیں اور اس کی زیادہ تر ذمہ داری صنعتی ممالک پر عائد ہوتی ہے۔

تصویر کا منفی رخ یہ ہے کہ امریکہ سمیت کئی ممالک نہ صرف یہ کہ کاربن گیسوں کا اخراج روکنے کی بجائے معدنی توانائی سے چلنے والی صنعتوں کو فروغ دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG