رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی صدر کے متنازع بیان کے خلاف ایوانِ نمائندگان میں قرارداد منظور


امریکی کانگریس کی عمارت (فائل فوٹو)

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس متنازع بیان کی مذمت میں قرارداد منظور کرلی ہے جسے ڈیموکریٹ ارکان نے نسل پرستانہ قرار دیا تھا۔

کانگریس کی چار غیر سفید فام ڈیموکریٹ خواتین ارکان کے بارے میں ٹرمپ کے ٹوئٹس پر امریکہ میں کئی حلقے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

صدر نے اپنے ٹوئٹس میں چاروں ارکانِ کانگریس سے کہا تھا کہ وہ اپنے آبائی ملکوں کو واپس چلی جائیں اور وہاں اصلاحات لانے کی کوشش کریں۔

صدر ٹرمپ کے ٹوئٹس کے خلاف منگل کی شام ایوانِ نمائندگان میں مذمتی قرارداد پیش کی گئی جسے ایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا۔

قرارداد کے حق میں 240 ارکان نے ووٹ دیا جب کہ 187 نے اس کی مخالفت کی۔ ایوان کے کل ارکان کی تعداد 435 ہے جن میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیان کی شدید مذمت کرتا ہے۔ امریکی صدر کے اس بیان سے لوگوں میں خوف اور نفرت کی فضا بڑھی ہے۔

ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایسے نسل پرستانہ بیانات حوصلہ شکن ہیں۔

نینسی پیلوسی کا مزید کہنا تھا کہ ایوان کے ہر رکن کو ایسے بیانات کی مذمت کرنی چاہیے۔

اسپیکر کے اس بیان کے بعد ایوان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور ری پبلکن ارکان کی جانب سے دو گھنٹے تک نینسی پلوسی کے بیان پر بحث کی جاتی رہی۔

ری پبلکن ارکان کی اکثریت نے امریکی صدر کے بیان کا دفاع کیا اور قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے رکن ٹام مک کلنٹوف نے کہا کہ ٹرمپ نے کانگریس کی خواتین ارکان کی نسل پر نہیں بلکہ ان کے جذبہ حُب الوطنی پر بات کی تھی۔

واضح رہے کہ ایوانِ نمائندگان میں امریکی صدر کی مخالفت میں قرارداد منظور ہونے پر وائٹ ہاؤس کا فوری طور پر کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

البتہ رات گئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ری پبلکن پارٹی کو متحد دیکھنا اچھا لگا۔ ری پبلکن پارٹی متحد ہے اور انہوں نے میرے بیان کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر بیانات ہی دیکھنے ہیں تو پھر ملک کی مخالفت میں خطرناک بیانات دینے والوں پر توجہ دیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کی چارخواتین ارکان کے بارے میں ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے تباہ شدہ اور جرائم سے بھرپور ممالک واپس جائیں جہاں سے وہ آئی ہیں۔

​اس بیان کے بعد امریکی صدر کو خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کہ ایوانِ نمائندگان کی چاروں خواتین ارکان نے صدر ٹرمپ کے بیان کو مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا تھا۔

خبررساں ادارے رائٹرز نے پیر اور منگل ایک سروے کیا ہے جس کے نتائج کے مطابق متنازع ٹوئٹس کے بعد ری پبلکن جماعت کے حامیوں میں امریکی صدر کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG