رسائی کے لنکس

logo-print

گن کنٹرول اصلاحات کا مطالبہ، ڈیموکریٹس کا دھرنا ختم


ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کے گروپ نے چیمبر فلور میں تقریباً 26 گھنٹے تک دھرنا جاری رکھا۔ وہ گن کنٹرول اصلاحات پر قانون سازی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جان لیویس نے کہا ہے کہ ’’لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی، بس یہ پہلا قدم ہے‘‘

شہری حقوق کی پہچان، جان لیویس نے کہا ہے کہ ’’لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی، بس یہ پہلا قدم ہے‘‘؛ ایسے میں جب ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کے ایک گروپ نے چیمبر فلور میں تقریباً 26 گھنٹے کا دھرنا ختم کیا۔ وہ گن کنٹرول اصلاحات پر قانون سازی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

جمعرات کی شام جب یہ گروپ ایوانِ نمائندگان کی عمارت سے باہر نکل رہا تھا تو اسلحے پر کنٹرول کے حامیوں کے 100 سے زائد افراد پر مشتمل جلوس نے تالیاں بچا کر اُن کا خیرمقدم کیا۔

ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان نے، جِن کی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت ہے، ڈیموکریٹک ساتھیوں کے مطالبے کو مسترد کیا اور جمعرات کی صبح اپنا کام 5 جولائی تک ملتوی کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔

گذشتہ رات ایوان نمائندگان کی عمارت میں ڈرامائی سرگرمی جاری رہی جہاں ری پبلیکنز کچھ وقفوں کے بعد چیمبر میں داخل ہوتے رہے جہاں ڈیموکریٹس ’نو بِل، نو بریک‘ کا نعرہ لگاتے رہے؛ اور ایوان کے اسپیکر پال رائن کا دھیان مبذول کرانے کی کوشش کی۔

ووٹنگ کے دوران، ری پبلیکنز نے ایوان کو وقفہ دیا، جس اقدام کا مطلب چیمبر کی کیمراؤں اور مائکروفونز کو بند کردیا گیا۔ ’فیس بک‘ اور ’پیرسکوپ‘ استعمال کرتے ہوئے ڈیموکریٹس نے اپنے احتجاج کو براہِ راست نشر کیا، جب کہ نفع نقصان کے بغیر کام کرنے والے امریکی کیبل نیٹ ورک، ’سی اسپان‘ نے اپنے فیڈز کی نشریات شروع کیں، جس مین ایوان کے روایتی کیمرے استعمال نہیں ہوئے۔

اس سے قبل، امریکہ کے ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے پورا دن گن کنٹرول سے متعلق قانون سازی کے حق میں تقاریر کے بعد آخر وقت پر ایوان کے اندر دھرنا دیا۔

اگرچہ کارروائی کو جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا مگر رات گئے تک دونوں پارٹیوں کے درمیان مڈ بھیڑ کے بعد دھرنا ابھی جاری ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی طرف سے یہ اقدام ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں امریکی تاریخ کے مہلک ترین قتل عام کے بعد کیا گیا۔

انہوں نے سارا دن ’نو بل نو بریک‘ یعنی اگر بل نہیں لاؤ گے تو چھٹی نہیں ملے گی کی آوازیں لگائیں جبکہ گیلری میں بیٹھے عوام نے بھی امریکی یوم آزادی کے موقع پر چھٹی پر جانے سے قبل ایوان نمائندگان میں گن کنٹرول سے متعلق قانون سازی پر رائے شماری کے کے حق میں نعرے لگائے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے ہاتھوں میں سفید کاغذ اٹھا رکھے تھے جن پر اسلحے سے ہونے والے تشدد کے متاثرین کے نام درج تھے اور ان کے نعروں میں ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال رائن کی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔

یہ دوسرا ہفتہ ہے جب امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے اسلحے سے تشدد پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس نے امریکہ کی کئی برادریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

تشدد کا تازہ ترین واقعہ فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ہوا۔

بدھ کو ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے جارجیا سے تعلق رکھنے والے سول حقوق کے آئی کان اور کانگریس کے نمائندہ جان لیوس کی قیادت میں اس وقت تک دھرنا دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا جب تک اسلحے سے تشدد کو روکنے کے لیے قانون سازی پر رائے شماری نہیں کی جاتی۔

شروع میں ریپبلکن ارکان نے ایوان میں نظم ضبط کا مطالبہ کیا۔ جب ڈیموکریٹک پارٹی نے منتشر ہونے سے انکار کیا تو ریپبلکن ارکان چیمبر سے نکل گئے اور مائیکرو فون بند کر دیئے۔ اگرچہ ایوان میں روشنی تھی مگر کارروائی کو نشر نہیں کیا جا رہا تھا کیونکہ ایوان سے ویڈیو اسی وقت نشر ہوتی ہے جب وہ سیشن میں ہو۔

اس کے جواب میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے موبائل فون ایپلیکیشن ’پیری سکوپ‘ کو استعمال کر کے اپنے آپ کو خود نشر کرنا شروع کر دیا۔ مفاد عامہ کے لیے کانگریس کی کارروائی کو نشر کرنے والے ایک امریکی کیبل چینل نے پیری سکوپ کی فیڈز کو نشر کرنا شروع کر دیا ہے۔

سینیٹرز کے اقدام

بدھ کو ایوان نمائندگان میں افراتفری سے قبل گزشتہ ہفتے سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے اس معاملے کو اٹھایا تھا۔ کنکٹیکٹ کے کرس مرفی کی قیادت میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں پندرہ گھنٹے تک تقاریر کیں جس کے بعد ریپبلکن قائد ایوان مچ میکونل گن کنٹرول سے متعلق اقدامات پر رائے شماری پر اتفاق کیا تھا۔

بدھ کو متعدد سینیٹرز اپنے ساتھیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے سینیٹ کی عمارت سے چل کر ایوان نمائندگان گئے۔

تاہم پندرہ گھنٹے سے زائد عرصہ تک جاری رہنے والی ڈیموکریٹک ارکان کی تقاریر کے بعد کارروائی کو جمعرات تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

XS
SM
MD
LG