رسائی کے لنکس

logo-print

پلوسی کا اعلیٰ جنرل سے رابطہ، ٹرمپ کو فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے اقدامات پر گفتگو


نینسی پلوسی ایوان نمائندگان کی اسپیکر ہیں(فائل فوٹو)

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے پینٹاگون کے اعلیٰ ترین جنرل سے دریافت کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دورِ صدارت کے آخری ایام میں جوہری حملہ کرنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

اگرچہ اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایسا کوئی اقدام کریں گے۔ تاہم یہ نینسی پلوسی اور دوسرے رہنماؤں کی جانب سے صدر ٹرمپ کو رواں ماہ 20 جنوری سے پہلے ان کے عہدۂ صدارت سے ہٹانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات میں سے ایک ہے۔

نینسی پلوسی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اپنے ساتھیوں کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ انہوں نے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مائیک ملی سے اس سلسلے میں بات کی ہے کہ ایک غیر مستحکم مزاج صدر کی جانب سے فوجی کشیدگی شروع کرنے اور ایٹمی دھماکوں کے لیے درکار سیکیورٹی کوڈز تک ان کی رسائی کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ حالت یہ ہے کہ ایک مضطرب صدر سے زیادہ کچھ خطرناک نہیں ہے اور انہیں صدر ٹرمپ کی جانب سے ان کے ملک اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے سے ہر ممکن روکنا ہوگا۔

وائس آف امریکہ کی جانب سے پوچھے جانے پر مائیک ملی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پیلوسی کو کال پر ایٹمی کوڈز سے متعلق ان کے سوالات کا جواب دیا۔​

جمعے کو امریکی خبر رساں ادارے ‘این بی سی’ نے رپورٹ کیا تھا کہ نینسی پلوسی نے اپنے ڈیمو کریٹک ساتھیوں کو بتایا کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایسے اقدمات کیے گئے ہیں کہ صدر ٹرمپ خود سے یک طرفہ طور پر ایٹمی حملہ کرنے کا حکم نہ دے سکیں۔

صدر کو کلی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایٹمی حملہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے اور اس کے لیے اسے نہ ہی کانگریس کی اور نہ ہی اپنے مشیروں کی رضامندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم ایک جنرل اپنے وکلا سے مشورہ کر کے اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ صدارتی حکم غیر قانونی ہے اور وہ اس پر عمل کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔

نینسی پلوسی اور ان کے ڈیموکریٹک ساتھیوں کی خواہش ہے کہ بدھ کو امریکی ایوانِ نمائندگان پر ہونے والی صدر ٹرمپ کےحامیوں کی چڑھائی اور اس کی وجہ سے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی صدارتی جیت کی کانگریس سے باضابطہ منظوری کے عمل میں تاخیر پر صدر ٹرمپ کے مبینہ کردار پر ان کا احتساب کیا جائے۔

اس کے علاوہ کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے نائب صدر مائیک پینس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت صدر ٹرمپ کو صدارت کے لیے غیر موزوں قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کریں۔

اگرچہ مائیک پینس نے اس اقدام پر ابھی تک کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنے ساتھیوں پر یہ رائے ظاہر کی ہے کہ وہ ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG