رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں کرونا بحران میں شدت: دنیا کے لیے کیا مسائل ہو سکتے ہیں؟


بھارت میں ایک ہفتے کے دوران 26 لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور وبا کے پھیلاؤ کی شرح 20 فی صد بڑھی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ ہفتے پوری دنیا میں کرونا وائرس کے ریکارڈ ہونے والے مجموعی کیسز میں سے 46 فی صد بھارت میں سامنے آئے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی ادارۂ صحت کی کرونا وبا کے بارے میں جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دنیا میں کرونا کے تقریباً 57 لاکھ کیسز پورٹ ہوئے اور اس عرصے میں وائرس سے 93ہزار اموات ہوئیں۔

بھارت میں اس ایک ہفتے کے دوران 26 لاکھ نئے کیسز سامنے اور وبا کے پھیلاؤ کی شرح میں 20 فی صد اضافہ ہوا۔ بھارت میں گزشتہ ہفتے وبا سے 23ہزار231اموات ہوئیں۔

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت میں وبا کے اعدادوشمار سرکاری ذرائع سے جاری کردہ تفصیلات سے زیادہ ہیں۔

ان کے مطابق بھارت میں نظام پر پڑنے والے دباؤ سے معلوم ہوتا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں اور ہلاکت شدگان کی بڑی تعداد ریکارڈ نہیں ہورہی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں دنیا کی کل آبادی کا 18 فی صد حصہ آباد ہے۔ اس لیے یہاں سنگین ہونے والے بحران کے پوری دنیا پر ممکنہ اثرات ہوسکتے ہیں۔

بھارتی ویرینٹ: پڑوسیوں اور دنیا کے لیے چیلنج

عالمی ادارۂ صحت کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق بھارت میں وبا کی شدت کے اثرات اس کے پڑوسی ممالک میں بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں وبا کی شدید ہونے کے بعد گزشتہ ہفتے کے دوران نیپال میں کرونا کے پھیلاؤ میں 137 فی صد اضافہ ہوا ہے اور وہاں ایک ہفتے میں 31ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سری لنکا میں بھی کرونا کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

یکم مئی کو افریقی ملک یوگینڈا میں بھی بھارتی ویرینٹ کا کیسز سامنے آچکا ہے۔ شعبہ صحت کے اعلیٰ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس ویرینٹ کے آنے کے بعد ملک میں وبا کا پھیلاؤ تیز ہوسکتا ہے۔

اب تک مجموعی طور پر بھارت میں تشخیص ہونے والا کرونا وائرس کا ویرینٹ دنیا کے اٹھار سے زائد ممالک میں سامنے آچکا ہے۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے وبائی امراض کے ماہر شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ B.1.617 ویرینٹ میں وائرس کی بیرونی ’اسپائک‘ میں دو کلیدی تبدیلیاں یا ’میوٹیشنز‘ ہوئی ہیں۔

عالمی ادارہٴ صحت نے بھارت میں سامنے آنے والی قسم کو ’ویرینٹ آف انٹرسٹ‘ قرار دیا ہے۔ یعنی اس کے بارے میں ابھی بہت سی ایسی معلومات سامنے آ سکتی ہیں جس سے اس بات کا تعین ہو گا کہ وائرس میں آنے والی یہ تبدیلیاں اس کے پھیلاؤ میں تیزی اور بیماری کی شدت میں اضافے کے ساتھ ویکسین کی اثر پذیری کے حوالے سے کیا اثرات رکھتی ہیں۔

امریکہ کی واشنگٹن یونیورسٹی کے وبائی امراض میں آنے والی تبدیلیوں پر تحقیق کرنے والے ماہر کرس مری کا کہنا ہے کہ بہت کم مدت میں جس پیمانے پر بھارت میں وبا پھیلی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید درمیان میں ایک اور قسم بھی ہے جو ریکارڈ ہونے سے رہ گئی ہے۔

اس پس منظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی ویرینٹ سامنے آنے سے قبل برازیل اور برطانیہ کے ویرینٹ کی وجہ سے امریکہ سمیت دیگر خطوں میں وبا کے پھیلاؤ میں تیزی آئی تھی۔

اس لیے سوا ارب سے زائد آبادی رکھنے والے ملک بھارت میں سامنے آنے والے ویرینٹ کے اثرات کو صرف بھارت تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔

بھارتی ویرینٹ سامنے آنے کے بعد برطانیہ، آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا سمیت کئی ممالک نے بھارت پر سفری پابندیاں عائد کردی ہیں تاہم عالمی ادارہ صحت کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامی ناتھن کا کہنا ہے کہ وائرس سرحدوں، عمر، جنس یا مذہب کی تمیز نہیں رکھتا۔

یہ سوال بھی کیا جارہا ہے کہ کیا بھارت جیسے بڑے ملک کو دنیا سے الگ تھلگ کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے شعبہ عالمی صحت عامہ کی سربراہ دیوی سریدھرنے برطانوی اخبار ’گارجین‘ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ سرحدوں کی بندش سے کسی ویرینٹ کے پھیلاؤ کو مکمل طور پر نہیں روکا جاسکتا لیکن اس کی رفتار کو ضرور سست کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ، تائیوان یا جنوبی کوریا جیسے ممالک سے کوئی ویرینٹ اس لیے سامنے نہیں آیا کہ وہاں اس کی روک تھام اور مکمل خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔

مختلف ممالک میں سامنے آنے والے ویرینٹ یا اقسام کے مقابلے لیے دیوی سریدھر کے مطابق ایک ہی راستہ ہے کہ نہ صرف ہر ملک اپنے شہریوں کی ویکسی نیشن پر کام کرے بلکہ اس کے دوسروں کو بھی مدد فراہم کرے۔

دوا سازی کے شعبے میں بحران

’انویسٹ انڈیا‘ ویب سائٹ کے مطابق دنیا بھر میں جینریک ادویات کی فراہمی میں بھارت کا حصہ 20فی صد ہے۔

پیدواری واری صلاحیت کے اعتبار سے بھارت کی دوا ساز صنعت دنیا میں تیسرے اور اپنی مالییت کے حساب سے 14وں نمبر پر ہے۔

بھارت میں تین ہزار فارماسیوٹکل کمپنیاں ہیں یہاں امریکی ادارے ایف ڈی اے، عالمی ادارۂ صحت سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کے منظور شدہ پلانٹ بھی قائم ہیں۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ وبا میں سنگینی کے باعث بھارت سے دواؤں کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔

ویکسی نیشن کی عالمی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں

بھارت کا ’سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا‘ (ایس آئی آئی) دنیا میں ویکسین بنانے والا سب سے بڑا ادار ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور گاوی نامی ادارے کی جانب سے 64 غریب ممالک کو ویکسین کی فراہمی کے لیے ’کوویکس‘ پروگرام کے تحت مارچ میں 4کروڑ اور اپریل میں 5کروڑ خوراکیں فراہم کرنا تھیں۔

اسے قبل ایس آئی آئی ’ایسٹرا زینیکا‘ ویکسین کی 2 کروڑ 80 لاکھ خوراکیں برآمد کرچکا ہے۔

تاہم مارچ میں کرونا کی صورت حال بگڑنے کے بعد بھارت نے ویکسین کی برآمد عارضی طور پر روک دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورت حال سے عالمی سطح پر کورونا ویکسی نیشن کی کوششیں متاثر ہوں گی۔

بھارتی شہروں کا کمزور نظام صحت اور کرونا وائرس
بھارتی شہروں کا کمزور نظام صحت اور کرونا وائرس

’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق گزشتہ ماہ افریقہ سینٹرز فور ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر نے بھارت پر زور دیا تھا کہ وہ ویکسین کی برآمدات پر حد بندیوں کو ختم کرے تاکہ براعظم افریقہ میں ویکسین نیشن کا آغاز ہوسکے۔

خیال رہے کہ افریقہ کے زیادہ تر ممالک کو عالمی ادارہ صحت کے کوویکس پروگرام کے تحت ہی ویکسین کی خوراکیں فراہم کی جانی تھیں جن کی سب سے تعداد بھارت میں تیار کی جائے گی۔

عالمی معیشت میں سست روی

بھارت دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ہے اور آئی ایم ایف کے مطابق دنیا کے معاشی شرح ترقی میں اس کا کردار بہت اہم ہے۔

بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی چیف اکنامسٹ گیتا گوپی ناتھ کے مطابق عالمی ادارے کے 2020اور 2021میں عالمی معیشت کی شرح ترقی کے اندازوں سے کم ہونے کی ایک بڑی وجہ بھارت میں آنے والی معاشی سست روی بھی تھی۔

رواں برس جنوری میں سامنے آنے والے آئی ایم ایف کے ایک سروے کے مطابق 2021میں عالمی معیشت میں بہتری کی توقع کی جارہی تھی۔ تاہم برازیل، جنوبی افریقا اور بھارت جیسے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مسائل کے بعد مجموعی طور پر عالمی شرح ترقی بھی متاثر ہوگی۔

’سی این بی سی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی معیشت داں سونم ورما کے نزدیک رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی شرح پیداوار ڈیڑھ فیصد تک محدود رہے گی۔

اس کے علاوہ وبا کی شدت کے باعث عائد کی جانے والی سفری پابندیاں بھی براہ راست بھارتی اور عالمی معیشت پر اثرات مرتب کریں گی۔

بھارت میں وبا کے امریکی معیشت پر اثرات

گزشتہ ماہ امریکہ کے چیمبر آف کامرس نے بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وبا کے باعث بھارت کو درپیش معاشی مسائل عالمی سطح پر بھی معیشت کی سست روی کا باعث بنیں گے۔

یوایس چیمبر آف کامرس کے ایگزیکٹیو نائب صدر مائرون بریلیئنٹ نے کہا کہ متعدد امریکی کمپنیوں کے بیک آفس بھارت میں قائم ہیں اور وہاں ان کے لاکھوں ملازمین بھی ہیں۔

’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ بھارت میں حالات بہتر ہونے سے پہلے سنگین ہوجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اصل خطرہ‘ یہ ہے کہ بھارت کی معیشت لڑکھڑا جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں وائرس کے پھیلاو سے امریکی معیشت کی سست روی کے خدشات پائے جاتے ہیں۔

امریکہ کے تاجر نمائندوں کے مطابق بھارت اور امریکہ کے مابین خدمات اور مصنوعات کی تجارت کا حجم 2019میں 146ارب ڈالر سے زائد رہا۔

بھارت 2019میں 92ارب ڈالر کی مصنوعات کی تجارت کے ساتھ امریکہ نواں بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG