رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی تاریخ میں دوسری دفعہ ایک منتخب جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہے۔ ان دو مسلسل جمہوری ادوار میں کیا ایسا ہوا ہے جو، پچھلے عشروں کے فوجی حکمرانوں کو چھوڑیے، اس ہزاروی کے پہلے فوجی رولر جنرل مشرف کے دور میں نہیں ہو رہا تھا؟ سویلین اداروں کی کارکردگی میں، بشمول پارلیمنٹ کے، کیا نکھار آیا ہے؟ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں یہ پارلیمان کتنی بااختیار تھی؟ قومی فیصلوں میں اس کا کیا کردار رہا ؟

اب جب 25 جولائی کو پاکستان میں پہلی بار ووٹ ڈالنے کا اہل نوجوان بھی، جو فوجی اور سویلین انتظامیہ کی پرفامنس کے ذائقوں سے آشنا ہے، جب پولنگ بوتھ جائے گا تو کیا اسے الیکشن کی شفافیت پر اعتماد ہو گا؟

گڈگورننس کس حد تک جمہوری ایجنڈے کا حصہ رہی؟ سول ادارے اپنی خودمختاری اور ساکھ کو کس حد تک بہتر بنا سکے ؟ سول ملٹری تعلقات میں دو بڑے اداروں کے درمیان اعتماد کہاں تک بڑھا اور کیا ان دس برسوں میں ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں یعنی مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف اپنی پارٹیوں کو کس حد تک جمہوری بنا سکی ہیں؟

ہم چونکہ صرف سوالات ہی اٹھا سکتے ہیں، تو یہ سوال ہم نے سیاسی راہنماؤں اور سیاسی و سماجی علوم کے ماہرین کے سامنے رکھے۔

مسلم لیگ نوازکے چیئرمین اور بزرگ سیاستدان راجہ ظفرالحق

’’ سویلین ادوار فوجی دور سے کہیں بہتر تھے۔ جمہوریت کا سفر آگے بڑھ رہا تھا مگر نواز لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کے خلاف احتساب کے نام پر کاروائی شروع کر دی گئی۔ پارلیمنٹ کی کارکردگی بالخصوص سینیٹ کی کارکردگی بہتر رہی۔ سیاسی کلچر میں وراثت کا عنصر نمایاں ہے اور لوگ بحیثیت مجموعی کسی خاندان کو پسند کرتے ہیں تو اس اعتبار سے پارٹیوں کی قیادت خاندانوں کے پاس ہی ہے مگر پارٹیوں کے اندر جمہوری کلچر بہتر ہوا ہے۔ اب پارٹی کے اندر باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں۔ سویلین حکومتیں توقعات کے مطابق 100 فیصد تو کامیاب نہیں رہیں لیکن 70 فیصد تک عوام کی توقعات پر پوری اتری ہیں۔ سول ملٹری تعلقات کے پس منظر میں، میں کہوں گا کہ جب سول گورنمنٹ خارجہ پالیسی یا سیکورٹی معاملات پر تھوڑا پیچھے ہٹتی ہے تو فوج کا اثر و رسوخ بڑھتا جاتا ہے اور جو جگہ فوج لیتی ہے، واپس دینے کو تیار نہیں ہوتی۔

راجہ ظفرالحق مانتے ہیں کہ یہ خلا خود سویلین حکومت چھوڑتی ہے مگر اس خدشے کے پیش نظر کہ وہ ایپل کارٹ کو الٹا نہ دیں اور ہم پھر زیرو پوائنٹ پر نہ چلے جائیں۔ وہ بظاہر نہیں کہتے کہ ہم مداخلت کر رہے ہیں لیکن عملاً کئی معاملات میں ان کی مداخلت ہوتی ہے۔ ملک اب دوسری سے تیسری سویلین حکومت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر صحیح کام کر رہے ہیں، نئے نگران وزیر اعظم پر بھی سب کو اعتماد ہے، لیکن الیکشن کمشن کے سیکرٹری کا بیان کہ باہر سے دباؤ ہے اور ہم شاید آز ادانہ انتخابات نہ کرا سکیں، اس پر تشویش ہے۔

راجہ ظفرالحق کے بقول سویلین گورنمنٹ نے کمیونی کیشن، انرجی سیکٹر میں بہت کام کیا ہے، عام آدمی اس سے خوش ہے، اور یہ کہ جمہوری دور میں شہری کی عزت نفس کا جس طرح خیال رکھا جاتا ہے وہ کسی اور بندوبست میں نہیں آتا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر تاج حیدر

ملک میں موجودہ جمہوریت کئی گمنام سپاہیوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ آج کے زمانے کا جب جنرل ضیا کے دور سے موازنہ کرتے ہیں تو بہت بڑا فرق نظر آتا ہے۔ گھٹن، ظلم کا ماحول تمام ہوا، اب مکالمہ ہوتا ہے، اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کیا جاتا ہے اور ملک میں جمہوریت پر ہر سطح پر اتفاق رائے ہے۔ اب آپس کے مباحثوں کے بعد جمہوریت دوسرے گیئر میں چلی گئی ہے اور اب بحث اس بات پر ہو گی کہ اپنے انسانی اور قدرتی وسائل کو کس طرح بہتر انداز میں استعمال کریں کہ ملک مستحکم ہو اور ترقی حاصل کرے۔ عوام کے پاس اس وقت سب سے بڑا ہتھیار سیاسی شعور ہے۔ اور اس سطح پر ہے کہ نیچے نہیں آ سکتا۔ آمر جمہوری پارٹیوں کو کچلنے کے لیے جماعتیں بنانے میں مصروف رہے، مذہبی جماعتوں نے جمہوریت کی ہمیشہ مخالفت کی مگر آج وہ مذہبی جماعتیں بھی جمہوریت کے پیچھے کھڑی ہیں اور جمہوریت کو کچلنے کے لیے بنائی گئی جماعتیں بھی جمہوریت پر یقین لائی ہیں تو یہ بڑی بات ہے۔

سینیٹر تاج حیدر کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں کئی ایک اہم ترامیم منظور کیں، صوبائی خودمختاری دی۔ آئینی سقم دور کیے، اس اعتبار سے کارکردگی اچھی رہی۔ سول ملٹری تعلقات پر ان کا کہنا تھا کہ ملک کو آگے لے جانا ہے تو ملک کو مضبوط کرنا ہو گا۔ نفاق سے بچنا ہو گا۔ پیپلزپارٹی پر بھلے سمجھوتوں کا الزام لگے، مگر سمجھوتے نظام کو مضبوط کرنے اور آگے بڑھانے کے لیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تیسری مسلسل منتخب جمہوری حکومت وجود میں آ رہی ہے۔ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی پارلیمنٹ میں خود آئے، فوج کے سربراہ نے گھنٹوں پارلیمنٹ کے اندر سوالوں کے جوابات دیے۔ سب اس پر اتفاق کرتے ہیں کہ سب اداروں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے۔ انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر محض اس وجہ سے کہ عدالت سے آپ کو سزا ملے تو ہم ملک کو تصادم کی طرف لے جائیں یہ ٹھیک نہیں۔

پارٹی میں جمہوریت کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ تاج حیدر چاہے جتنی بھی اچھی اردو بول لے، عام شہری نے بلاول بھٹو کو ووٹ دینا ہے اور اس طرح ان کو ہی آگے آنا ہے، یہی جمہوریت ہے

حامد خان، سینئر راہنما پاکستان تحریک انصاف

گزشتہ دو مسلسل سویلین حکومتیں زیادہ پرفارم نہیں کر سکی ہیںٕ۔ بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ گورننس میں بہتری نہیں آئی لیکن یہ ضرور ہے کہ لوگ مارشل لا کو قبول کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ لہذا بہتر ہے کہ غیرجمہوری طاقتیں براہ راست مداخلت نہ کریں اور اگر صرف دباؤ سے کچھ چیزیں بہتر کرا سکیں تو اچھا ہے۔ حامد خان نے مزید کہا کہ مقننہ کا بہت قصور ہے پارلیمنٹ کو مضبوط نہ بنانے میں۔ اراکین اسمبلی، اپنے حلقے کے لوگوں کے کام کرانے کے لیے وزرا سے ملنے پارلیمنٹ آتے ہیں ان کو قانون سازی سے غرض نہیں۔ اگر مقامی حکومتوں کا نظام بہتر ہو تو اراکینِ اسمبلی کی توجہ قانون سازی پر ہو گی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تحریک انصاف نے پارٹی کے اندر انتخابات کرانے کی کوشش ضرور کی مگر پارٹی کے اندر جمہوری کلچر کو وہ بھی فروغ نہیں دے سکی ہے۔

پروفیسر خورشید ندیم، اسکالر اورتجزیہ کار

جمہوریت بحیثیت مجموعی ایک ثقافتی تبدیلی کا نام ہے۔ اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے تو خامیاں بھی سامنے آتی ہیں۔ پچھلے پانچ برسوں میں پاکستان نے طویل سفر کیا ہے۔ اب اگر بات ہو رہی ہے کہ آئندہ انتخابات کارکردگی کی بنیاد پر ہونے چاہیں تو یہ اعتماد ثابت کرنا ہے کہ جمہوریت ڈیلیور کرتی ہے۔ شخصیت کا غلبہ انتخابات میں کم ہوا ہے۔ ہاں سیاسی جماعتوں کو جمہوری ادارہ بننے کی ضرورت ہے۔ اس سوال پر کہ دو سب سے بڑی جماعتیں اسٹبلشمنٹ پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ ان کے خلاف کام کر رہی ہے تو ایسی صورت میں جمہوریت مضبوط کیسے ہو گی؟ اس کے جواب میں پروفیسر خورشید کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ دائرے کا سفر ہے۔ سیاسی قوتیں ہی وقتاً فوقتاً غیر جمہوری قوتوں کی حمایت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گورننس کو بہتر بنا کر ہی عوام کا اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں رہی لیکن جاتے جاتے فاٹا کے انضمام پر آئین سازی جیسے بڑے نوٹ پر مدت مکمل کی۔

احمد بلال محبوب، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پلڈاٹ

پارلیمنٹ کی کارکردگی باقی سول اداروں کی نسبت اتنی اچھی نہیں رہی۔ پارلیمنٹ کے اندر ہمارے لیڈر نہ تو اہم موقعوں پر خود آئے، نہ ہی ان کے وزرا اکثر سوالوں کے جواب کے لیے موجود تھے۔ ہمارے ووٹرز بھی قصوروار ہیں کہ وہ اپنے نمائندوں کو گلی محلوں کے کام پر لگائے رکھتے ہیں۔ یہ کام لوکل حکومتوں کے ہیں لیکن اختیارات کی منتقلی راتوں رات نہیں ہوتی، نظام چلتا رہا تو کام تقسیم ہوں گے، اور مقامی حکومتیں مستحکم ہوں گی۔

ڈاکٹر نور فاطمہ، ایجوکیشنسٹ/تجزیہ کار

پاکستان میں جمہوری نظام کو فوجی مداخلت کا سامنا رہا ہے۔ ان دو مسلسل ادوار کے اندر جو تبدیلیاں آئیں وہ اگرچہ دیر سے سامنے آئیں گی لیکن سویلین حکومتوں کے اندر اظہار رائے کی آزادی دیکھنے کو ملی ہے جس کے سبب ووٹروں کے رویے میں تبدیلی آئی ہے، سیاسی شعور آیا ہے۔ اور یہ چیزیں الیکشن کے ایجنڈے کو تشکیل دیتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG