رسائی کے لنکس

سائبیریا: جما دینے والی سردی سے مقابلہ کرتے بے گھر افراد


الیکسی ویرگونو گزشتہ 11 سال سے سڑک پر زندگی گزار رہے ہیں۔

سائبیریا کے متعدد بے گھر افراد کی طرح الیکسی ویرگونو بھی موسم سرما میں نقطہ انجماد سے 30 درجے نیچے سردی کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔ وہ شدید سرد موسم سے بچنے کے لیے ایک صنعتی پائپ لائن کے نیچے رات بسر کرتے ہیں۔

ذرا سی کوتاہی اُن کی جان لے سکتی ہے اور وہ نزلہ و زکام کا شکار ہو کر موت کے منہ بھی جا سکتے ہیں۔ لیکن صنعتی پائپ کی حدت بھی اُن کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ یہاں لوگ گرمائش کے لیے کچی شراب کا بھی استعمال کرتے ہیں۔

46 سالہ الیکسی گزشتہ 11 سال سے ایسے ہی زندگی گزار رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ "آپ کو رات کو آنکھیں بند اور کان کھلے رکھ کر سونا پڑتا ہے۔"

الیکسی دوستوں کے ہمراہ اپنے علاقے میں قابل استعمال اشیا تلاش کرتے ہیں۔
الیکسی دوستوں کے ہمراہ اپنے علاقے میں قابل استعمال اشیا تلاش کرتے ہیں۔

وہ اپنا معیار زندگی بہتر کرنے کے لیے کوشاں تھے کہ دو سال قبل اُن کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا۔ جو جگر کی بیماری کے باعث انتقال کر گئیں۔ اُس کے بعد اُنہوں نے اُمید چھوڑ دی۔ دونوں میاں بیوی ٹرین اسٹیشن کے قریب رہتے تھے۔

الیکسی کہتے ہیں کہ اگر اُنہیں اپنی بیوی جیسی خاتون ملی تو وہ زندگی کی طرف دوبارہ لوٹنے کی کوشش کریں گے، لیکن اُن کے بقول فی الحال ایسی کوئی خاتون اُنہیں نہیں ملیں۔

الیکسی کا شمار سائبیریا کے قصبے 'اومسک' کے سرکاری طور پر اُن 3500 بے گھر افراد میں ہوتا ہے۔ جو معاشرے کے دیگر افراد سے گھلنا ملنا چھوڑ کر الگ تھلگ اپنی دُنیا میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

قریبی جنگل سے گزرنے والی صنعتی پائپ لائن کی حدت شدید سرد موسم سے بچاؤ کا ایک ذریعہ ہے۔
قریبی جنگل سے گزرنے والی صنعتی پائپ لائن کی حدت شدید سرد موسم سے بچاؤ کا ایک ذریعہ ہے۔

الیکسی نے طنزاً کہا کہ "آپ کو شوق ہو گا کہ تین کمبل اوڑھ کر اپارٹمنٹ کے کمرے میں سردی سے ٹھٹھریں۔ میں تو پائپ کے نیچے آرام سے سوتا ہوں۔"

اُن کا پسندیدہ وقت رات کو ہوتا ہے۔ جب وہ شدید سردی میں قصبے میں گھوم کر شیشے کی بوتلیں اور دیگر قابل استعمال اشیا جمع کر کے کچھ رقم کے عوض فروخت کر دیتے ہیں۔

ان افراد نے عارضی طور پر اپنے ٹھکانے بھی قائم کر رکھے ہیں۔
ان افراد نے عارضی طور پر اپنے ٹھکانے بھی قائم کر رکھے ہیں۔

ماسکو کے مشرق میں واقع 'اومسک' کے حکام نے بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہ قائم کر رکھی ہے۔ لیکن دُور ہونے کے باعث الیکسی کو اس میں دلچسپی نہیں اُن کا کہنا ہے کہ وہاں مقیم افراد اُنہیں قابل استعمال اشیا کی تلاش کی اجازت نہیں دیں گے، کیوں کہ اُنہوں نے وہاں اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔

ایک مقامی رفاعی ادارہ وقتاً فوقتاً ان بے گھر افراد میں کھانا اور کپڑے بھی تقسیم کرتا ہے۔ الیکسی نے ایک دفعہ اپنے دوست الیگزینڈر کی جان بھی بچائی تھی جسے مقامی نوجوانوں نے آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔

البتہ بعض اوقات بدقسمی اور حالات کی سنگینی کے باعث یہ لوگ عام زندگی کی طرف لوٹنے کی خواہش بھی کرتے ہیں۔

قصبے کے قریب سے گزرنے والی ریلوے لائن۔
قصبے کے قریب سے گزرنے والی ریلوے لائن۔

44 سالہ لوزیا اسٹیپنوا بھی ایسے ہی بے گھر افراد میں شامل ہیں۔ جو گزشتہ ماہ صنعتی پائپ کے بہت قریب سونے کے باعث جھلس گئی تھیں۔ وہ تین ہفتے تک اسپتال میں زیرِ علاج بھی رہیں۔ وہ اب 40 کلو میٹر دُور ایک بحالی مرکز میں زیرِ علاج ہیں۔

لوزیا بھی ان بے گھر افراد میں شامل ہیں۔ جو گزشتہ ماہ صنعتی پائپ کی حدت سے جھلس گئی تھیں۔

لوزیا 27 سال سے بے گھر ہیں اُن کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار سوچتی ہیں کہ اپنی والدہ کے پاس چلی جائیں۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ اُن کے وقت کو 27 سال پیچھے لے جانا اُن کے بس میں نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG