رسائی کے لنکس

logo-print

توہینِ مذہب کے ملزم کے مقدمے میں تاخیر پر ایچ آر سی پی کی مذمت


ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ ملزم جنید حفیظ کو ملتان جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

کمیشن نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ توہینِ مذہب کے ملزم جنید حفیظ کا مقدمہ ایک دوسرے جج کو منتقل کردیا گیا ہے جس سے ان کا شفاف ٹرائل کا حق مزید متاثر ہوا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے ایک غیر جانب دار ادارے 'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' (ایچ آر سی پی) نے توہینِ مذہب کے الزام میں قید ایک شخص کے خلاف جاری مقدمے کی کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کمیشن نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ توہینِ مذہب کے ملزم جنید حفیظ کا مقدمہ ایک دوسرے جج کو منتقل کردیا گیا ہے جس سے ان کا شفاف ٹرائل کا حق مزید متاثر ہوا ہے۔

جنید حفیظ کو مارچ 2013ء میں پاکستان کے صوبے پنجاب میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب طلبہ کے ایک گروہ نے ان پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا تھا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ شفاف عدالتی کارروائی بنیادی طور پر ہر ملزم اور خاص طور پر ان افراد کا حق ہے جن پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’جس پر مذہب کی توہین کا محض الزام ہی لگ جاتا ہے اس کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔۔۔ کئی واقعات تو ایسے ہیں کہ کچھ افراد کو محض توہینِ مذہب کے الزام ہی پر قتل کر دیا گیا۔

تاہم استغاثہ کی طرف سے مقدمے کی منتقلی کے بارے میں تاحال کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر اس وقت جنید حفیظ کے شفاف ٹرائل کے حق کو یقینی نہ بنایا گیا تو انہیں مزید پانچ سے دس سال جیل میں گزارنا پڑ سکتے ہیں۔‘‘

جنید حفیظ کے خلاف دائر مقدمے کی کارروائی پریزائڈنگ ججوں کے مسلسل تبادلوں، استغاثہ کے گواہوں کی عدم موجودگی اور دیگر انتظامی وجوہات کی بنا پر کئی برسوں سے التوا کا شکار ہے۔

مئی 2014ء میں ایچ آر سی پی کے ریجنل کو آرڈینیٹر اور جنید حفیظ کے وکیل راشد رحمان کو ان کے دفتر میں فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں جنید حفیظ کے خاندان کے لیے نیا وکیل تلاش کرنا انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔

ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ ’’ایک ایسے وقت میں جب وکیلِ صفائی پہلے ہی استغاثہ کے دلائل کا جواب دے چکا ہے اور مقدمے کی سماعت ختم ہونے کے قریب ہے، جنید حفیظ کے مقدمے کی منتقلی ملزم کے شفاف ٹرائل کے حق کو شدید متاثر کرے گی۔‘‘

ایچ آر سی پی کے مطابق جنید حفیظ مئی 2014ء سے ملتان کی ہائی سکیورٹی جیل میں تنہا قید ہیں اور جیل حکام کا کہنا ہے کہ انہیں قیدِ تنہائی میں اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ جیل کے اندر جنید کی جان کو خطرہ ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے بھی جنید حفیظ کے مقدمے کی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG