رسائی کے لنکس

logo-print

'ہمارے کارکنوں کو ہراساں کرنے کی کوشش پر حکام ذمہ دار ہوں گے'


کمیشن نے حال ہی میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ جاری کی تھی۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک موقر غیر سرکاری تنظیم 'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' (ایچ آر سی پی) نے اپنی ایک کارکن کو ہراساں کیے جانے پر شدید ردعمل کا اظاہر کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایچ آر سی پی نے ایک بیان میں بتایا کہ ان کی کارکن مریم حسن کے لاہور میں واقع گھر پر "نقب زنی" کے انداز میں دو لوگ داخل ہوئے اور تقریباً ایک گھنٹے تک وہاں موجود رہنے کے بعد مریم کا لیپ ٹاپ، دو ہارڈ ڈرائیوز، فونز، زیورات اور کچھ رقم اپنے ساتھ لے کر چلے گئے۔

بیان کے مطابق ان افراد نے مریم کو بتایا کہ "وہ ایک روز قبل بھی آئے تھے لیکن انھوں نے چوری کی واردات نہیں کی کیونکہ مریم اس وقت گھر پر موجود نہیں تھیں۔ انھوں نے مریم سے ان کی پیشہ وارانہ مصروفیات سے متعلق سوالات بھی کیے۔"

مریم حسن گھر پر اکیلی رہتی ہیں اور یہ واقعہ جمعرات کو رات دیر گئے پیش آیا۔ انھوں نے حال ہی میں ایچ آر سی پی کی طرف سے پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق جاری کی گئی رپورٹ بھی مرتب کی تھی۔

تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ دونوں افراد کوئی عام چور نہیں تھے اور اس نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان ملزمان کو گرفتار کرے اور ان کی شناخت واضح کرے۔

"ایچ آر سی پی کمیشن سے وابستہ کسی بھی شخص کو ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کی طرف سے ہراساں کرنے کی کسی بھی کوشش پر صوبائی حکام کو ذمہ دار ٹھہرائے گی۔"

حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں تنظیم نے جہاں دیگر معاشرتی انصافیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کا تذکرہ کیا تھا وہیں جبری گمشدگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بتایا تھا کہ گزشتہ برس صحافیوں اور بلاگرز کے لیے ایک مشکل سال رہا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG