رسائی کے لنکس

حب: توہین مذہب کے ملزم کی حوالگی کا مطالبہ، صورت حال کشیدہ


(فائل فوٹو)

بلوچستان کے جنوبی ضلع لسبیلہ کے شہر حب میں توہین مذہب کے ایک مبینہ واقعے کے خلاف شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے،جمعرات کو بازار اور کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو کئی گھنٹوں تک بند کیے رکھا۔

مظاہرین یہ مطالبہ کر رہے تھےکہ مبینہ طور پر توہین مذہب کا ارتکاب کرنے والے نوجوان کو اُن کے حوالے کر دیا جائے۔

لسبیلہ پولیس حکام کے مطابق بدھ کو حب کے شہریوں نے شکایت کی تھی کہ 35 سالہ پر کاش کمار نے پیغمبر اسلام سے متعلق مبینہ طور پر توہین آمیز کلمات سماجی رابطے کے ایک ذریعے ’’وٹس اپ‘‘ پر شیئر کیے تھے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے لیا گیا اور اُسے جیل بھیج دیا گیا۔

حکام کے بقول اس واقعے کے خلاف مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جا رہا تھا اور جمعرات کی صبح ہی سے صورت حال کشیدہ ہو گئی، حب بازار کی تمام دُکانیں بند تھیں اور درجنوں افراد نے شہر میں جلوس نکالا اور احتجاج کیا۔

بعد میں مظاہرین حب پولیس کی تھانے کی طرف بڑھے اور تھانے کو گھیرے میں لے کر ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔

اس دوران تھانے پر پتھراﺅ بھی کیا گیا جس سے بعض پولیس اہلکار زخمی ہو گئے، لوگوں کو منشتر کرنے کے لیے پولیس نے ہوائی فائرنگ کی جس سے مظاہرین دوبارہ بازار کی طرف چلے گئے اور شہر میں احتجاج جاری رکھا۔

پولیس حکام کے مطابق مظاہرین کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ زیر حراست ملزم کو جلد عدالت پیش کر کے اُس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی جس کے بعد مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔

شہر یوں کے مطابق اس واقعہ کے بعد باالخصوص ہندو برادری کے لوگ خوف محسوس کر رہے ہیں۔

پاکستان کے جنوب مغر بی صوبہ بلوچستان میں کوئٹہ مستونگ، قلات، خضدار، لسبیلہ حب اور دیگر چھوٹے شہر وں میں ہندو برادری کے لوگوں کی بڑی تعداد رہتی ہے جو مختلف کاروبار کرتے ہیں۔

اس برادری کے کاروباری لوگوں کو اس سے پہلے کئی بار اغواء بھی کیا گیا اور بھاری تاوان کی ادائیگی کے بعد اُن کی رہائی ممکن ہوتی رہی ہے، ان واقعات سے تنگ آکر ہندو برادری کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ملک کے دیگر نسبتاً پر امن شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG